مذہب کے نام پر خون — Page 152
۱۵۲ مذہب کے نام پرخون گندے دلوں کی میل کو اس طرح الگ کر دیا جیسے بھٹی گندے کپڑوں سے میل کاٹ کر الگ پھینک دیتی ہے لیکن افسوس ہے کہ اس طرف کسی کی نگاہ نہیں اٹھتی اور دل سخت ہو گئے۔درد میں ڈوبی ہوئی تقریروں کی جگہ خشمگی فتووں نے لے لی اور سینہ دعا سے اس طرح خالی ہو گیا جیسے وہ گھونسلہ جسے پرندہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ گیا ہو۔کچھ تو وہ ہیں جو ناصح ہونے کا دعوی ہی ترک کر بیٹھے اور خدائی فوجدار بن کرامت کی اصلاح کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور کچھ وہ ہیں جو ناصح تو رہے مگر نصیحت کے اطوار بدل دیئے۔سخت کلامی ان کا شیوہ ہو گیا اور جبر و تشدد ذرائع اصلاح۔اور کسی نے پلٹ کر نہ دیکھا کہ کیا کبھی پہلے بھی ان راہوں پر چل کر بنی نوع انسان کی اصلاح ہوئی تھی ؟ افسوس کہ دراصل اسلام کی سچی محبت ہی باقی نہیں رہی ورنہ ممکن نہ تھا کہ یہ دردناک منظر دیکھ کر علماء کے دل پگھل نہ جاتے۔کوئی ویرانی سی ویرانی ہے کہ چاروں طرف مذہب کی روح پسپا ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور لامذہبیت کی موت دلوں پر قبضہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے مگر علماء ان حالات سے صرف نظر کئے ہوئے اسی ڈگر پر چلے جاتے ہیں اور اپنی روش پارینہ کو بدلنے کے لئے تیار نہیں۔انہیں کون سی زبان سمجھائے کہ روحانیت کی دنیا میں سخت کلامی اور تشددکا سکہ نہ کبھی پہلے چلا تھا، نہ آج ، نہ کبھی آئندہ چلے گا لیکن برا ہو اس کم مائیگی کا کہ روحانیت کی دنیا میں چلنے والے سکوں سے تو ان کا دامن ہی تہی ہے۔ہرایسی بے لوث خدمت اسلام ان پر دوبھر ہے جس کے سرے پر اقتدار، ذاتی منفعت یا نام ونمود کے طعے نہ لگے ہوں اور ہر مشکل کام پر ان کا اجتماع مشکل ہے۔آج ایک با نگ تکفیر کے سوا اور کوئی بانگ انہیں میدانِ عمل میں ایک ہاتھ پر جمع نہیں کر سکتی ! بیرونی حملے یہ تو اندرونی حملوں کا حال ہے اور بیرونی حملوں کی یہ کیفیت ہے کہ چھوٹے چھوٹے کمزور مذہب بھی جنہیں ہم دیر ہوئی مردہ سمجھ کر پیچھے چھوڑ آئے تھے وہ گو یا مردوں میں سے جی اٹھے ہیں اور بپھرے ہوئے شیروں کی طرح اسلام پر حملے کر رہے ہیں۔عیسائیت کو ہی دیکھ لو کہ جس کے عقائد کی بنیا د سخت کمزور اور کھوکھلے مفروضوں پر مبنی ہے اور جس کے دعاوی متضاد اور باہم دگر دست بگریباں ہیں اسلام کے خلاف دنیا کے کونے کونے میں اعلانِ جنگ کر رہی ہے۔گیدڑ تو شیروں کی طرح دندناتے پھرتے ہیں اور شیر گیدڑوں کی طرح کھو ہوں