مذہب کے نام پر خون — Page 149
۱۴۹ مذہب کے نام پرخون حوصلگی اور علم کی اعلیٰ صفات سے عاری ہو چکے ہوں۔کیا اس سے بڑھ کر بھی کسی مذہبی قوم پر کوئی ادبار آ سکتا ہے کہ اس کے راہنما تنگ نظر اور بے حوصلہ ہو جائیں اور اپنے باہمی اختلافات میں میزانِ عدل سے کام لینا ترک کر دیں؟ جن نظریات کو قائم کرنے کے وہ دعویدار ہوں خود اپنے اعمال سے انہی کی بیخ کنی کر رہے ہوں۔اگر ایسا ہو تو اس قوم کے دن لکھے جاتے ہیں۔ایسی قوم یقیناً بد قسمت ہوتی ہے اور ان کے علماء ایسی روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جو دن بدن بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ان کے دل و دماغ کو ایک گھن سا لگ جاتا ہے جو اندر ہی اندر ان کی صلاحیتوں کو چاٹ جاتا ہے اور تمام نظام عقل و خرد کو مفلوج کر دیتا ہے۔خود غرضی ان کی پہچان ہوتی ہے اور تنگ حوصلگی طرہ امتیاز۔ہر دوسرے شخص کے عقائد پر یہ خدائی فوجدار بن کر نگران ہو جاتے ہیں اور خدا کی غلامی کے نام پر یہ دنیا کو اپنے نظریات کی غلامی پر مجبور کرتے ہیں۔ان کی طبیعت سخت متضاد خصوصیات کی حامل ہوتی ہے اور ایک طرف تو کسی دوسرے فرقہ کے ائمہ اور بزرگان سے متعلق سخت گندی اور ننگ انسانیت زبان استعمال کرنے سے بھی ان کے نزد یک کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی اور دوسری طرف اُن باتوں پر بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو ان کے لئے باعث انبساط ہونی چاہیے تھیں۔چنانچہ یہ بے دھڑک مخالف فرقوں کے بزرگان پر گند اچھالتے ہیں بلکہ ان کی مقدس ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے متعلق بھی نہایت نا پاک حملے کرنے سے باز نہیں آتے اور یوم آخرت کو بالکل بھلا بیٹھتے ہیں۔اگر چہ نقل کفر کفر نباشد کا مقولہ درست ہے مگر پھر بھی میری بساط سے باہر ہے کہ میں اس زبان کے چند نمونے یہاں پیش کر سکوں جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں۔اگر قارئین کو ذاتی طور پر کسی ایسی تقریر سننے کا یا ایسی کتاب پڑھنے کا تلخ تجربہ نہیں ہوا اور وہ اس بارہ میں کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں تو تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں وہ اس مذہبی طرز کلام کے چند نمونے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ہر چند کہ فاضل ججوں کا قلم بھی اس قبیل کی تمام ہرزہ سرائیوں کو نقل کرنے کا متحمل نہیں ہوسکا۔بہر کیف ایک طرف تو ان کا احساس اتنا کند ہو جاتا ہے کہ ہر قسم کی شدید ترین دل آزاری اور بہتان طرازی ان کے نزدیک ایک اظہار واقعی بن جاتا ہے اور وہ عام انسانی شرافت سے بھی بہت