مذہب کے نام پر خون — Page 145
۱۴۵ مذہب کے نام پرخون پھر ان مسجدوں کو نذرآتش کرنا بھی تبلیغ اسلام کا ایک جزء سمجھا گیا جومحض اس لئے تعمیر کی گئی تھیں کہ ان میں خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کی جائے۔چنانچہ راولپنڈی میں :۔4 مارچ کو لیاقت باغ میں ایک اور جلسہ منعقد ہوا۔ایک ہجوم نے جلسہ کے بعد منتشر ہوکر مری روڈ کا رخ کیا اور احمدیوں کی ایک مسجد کو اور ایک چھوٹی موٹر کار کو آگ لگادی لے “۔جب علما ء ہی یہ درس دیتے ہوں کہ خدمت اسلام کا بہترین ذریعہ لوٹ مار اور قتل و غارت ہے تو عوام الناس ثواب کمانے کے لئے ایسے منفر د مواقع بھلا کب ہاتھ سے جانے دیتے ہیں۔ایسی خدمت کا موقع بھلا روز روز کہاں میسر آتا ہے کہ دنیا بھی سنور جائے اور عاقبت بھی۔چنانچہ مسجد اور کار کو آگ لگانے کے بعد :۔اسی شام کو کچھ دیر بعد لوٹ مار اور آتش زنی کے مزید واقعات بھی رونما ہوئے۔احمد یہ کمرشل کالج، نور آرٹ پر لیں اور پاک ریسٹوران شہر کے مختلف حصوں میں واقع تھے۔لیکن لوگ زبردستی ان میں گھس گئے اور انہوں نے مختلف اشیاء کولوٹنے ، جلانے اور تباہ کرنے کی کوشش کی۔ایک غیر احمدی نوجوان نور آرٹ پریس میں ملازم تھا اس کو احمدی سمجھ کر چھر امارا گیا اور وہ اسی زخم کی وجہ سے ہلاک ہو گیاہے “۔پھر وہ وقت آیا کہ یہ تبلیغ اسلام کا جذبہ بے پناہ اور بے اختیار ہو گیا اور نظم وضبط کے ہر دائرہ کو توڑ ڈالا۔احمدی اور غیر احمدی میں کوئی تمیز باقی نہ رہی اور جاندار اور بے جان کا فرق مٹ گیا۔تخریب کی ہر کاروائی اسلام کی فتح متصور ہونے لگی حتیٰ کہ اسی مقدس نام پر بلا امتیاز مذہب معصوم بیبیوں کو بے آبرو کیا گیا۔لائل پور میں :۔دس ہزار کے ایک ہجوم نے ضلع کی کچہریوں پر حملہ کر دیا۔کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔مجسٹریٹوں کو عدالتیں بند کرنے پر مجبور کر دیا اور پھر ڈپٹی کمشنر کے گھر میں گھس گئے۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۸۵ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۱۸۵