مذہب کے نام پر خون — Page 130
مذہب کے نام پرخون خلاف اس قدر خوفناک آتش غیظ و غضب بھڑکانے میں کامیاب ہو گئے کہ فاضل جوں کو اس پر ایک نظر ڈالنے سے سینٹ بارتھولومیوڈے کی یاد آ گئی۔تو اس اہم سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ بعینہ اسی طرح ہوا جس طرح ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے اور تاریخ مذاہب کا ہر خونی باب جس میں کی ہولی کھیلنے والوں کے طریق کا تذکرہ موجود ہے ، اس موضوع پر بڑی وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے۔اس طریق کار کی ایک جھلک تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں بھی نظر آتی ہے۔فاضل جج اسی طریق کار کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزام لگائے گئے ہیں کہ باؤنڈری کمیشن کے فیصلہ میں ضلع گورداسپور اس لئے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا کہ احمدیوں نے ایک خاص رویہ اختیار کیا اور چوہدری ظفر اللہ خاں نے جنہیں قائد اعظم نے اس کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے پر مامور کیا تھا خاص قسم کے دلائل پیش کئے لیکن عدالت ہذا کا صدر ( سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور حال وزیر قانون مرکز یہ مملکت پاکستان ) جو اس کمیشن کا مبر تھا اس بہادرانہ جدو جہد پر تشکر وامتنان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو چوہدری ظفر اللہ خاں نے گورداسپور کے معاملہ میں کی تھی۔یہ حقیقت باؤنڈری کمیشن کے کاغذات میں ظاہر وباہر ہے اور جس شخص کو اس مسئلہ سے دلچسپی ہو وہ شوق سے اس ریکارڈ کا معائنہ کر سکتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں نے مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات سرانجام دیں ان کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالت تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ شرمناک، ناشکرے پن کا بین ثبوت ہے لے “۔ان علماء کی طرف سے احمدیت پر بس یہی ایک بے بنیاد الزام نہیں لگایا گیا بلکہ جھوٹے پرا پیگینڈے کا ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا گیا اور ہر حادثہ اور ہر سازش کو جماعت احمدیہ پر تھوپا جانے لگا۔جنگ شاہی کے دردناک حادثہ کی ذمہ داری بھی احمدیوں پر ڈالی گئی اور راولپنڈی کی سازش بھی احمدیوں کی طرف ہی منسوب کی گئی ! خان لیاقت علی خان کے ناپاک قتل کا الزام بھی مظلوم احمد یوں ا تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۲۰۹ "