مذہب کے نام پر خون — Page 117
112 مذہب کے نام پرخون جس کے مذہب کا نام ہی اسلام تھا ! میں نے عمداً اس امکانی نقشہ کو کھینچتے ہوئے حتی الامکان اختصار اور احتیاط سے کام لیا ہے اور صرف انہی نقوش کی تصویر کشی کرنے پر اکتفاء کی ہے جو واضح اور غیر مشکوک طور پر مولانا کی مختلف کتب میں ملتے ہیں اور جن کے اقتباسات گذشتہ صفحات میں قارئین کی خدمت میں پیش کئے جاچکے ہیں۔ویسے مودودیت کے مزاج کو سمجھ لینے کے بعد یہ کچھ مشکل نہیں رہتا کہ انسان ہر دائرہ حیات میں ایک امکانی مودودی حکومت کی صحیح صحیح تصویر اتار سکے۔مثلاً اس دور کے تمدنی حالات کا نقشہ کھینچا جا سکتا تھا یا ڈنڈے کے زور سے عبادات کروانے پر جو مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوسکتی ہے اس کا ذکر کیا جاسکتا تھا۔اسی طرح اس حکومت کے بین الاقوامی تعلقات پر بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا تھا اور ان کوششوں کا تصور بھی باندھا جاسکتا تھا جن کے ذریعہ ملک سے بددیانتی، رشوت ستانی اور بد معاملگی کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی۔اسی طرح ملک کے سیاسی حالات کا نقشہ پیش کرنا بھی کچھ مشکل نہ تھا۔ایک ایسا ملک جس کی بناء ہی نظریہ تشدد اور خونریزی پر ہو وہ بغاوتوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور اگر اس ملک میں منافقین کی کثرت ہو تو پھر تو یہ خطرہ غیر متناسب طور پر بڑھ جاتا ہے بلکہ جوں جوں وقت گزرتا جائے ایسی حکومت کے خلاف رد عمل تیز تر ہوتا ہی چلا جاتا ہے۔پس ان تمام امکانی خطرات کے بارہ میں بہت کچھ لکھا جاسکتا تھا جو ایسی حکومت کو یقیناً پیش آسکتے ہیں اس کے علاوہ دوسری قسم کی سازشوں کا تصور بھی باندھا جا سکتا تھا اور اس خفیہ نظام جاسوسی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا تھا جس کے ذریعہ سے حکومت ان سازشوں اور بغاوتوں کا پتہ لگاتی اور عذاب دینے کے ان ذرائع کا ذکر بھی خالی از دیچسپی نہ ہوتا جو ایسی حکومت نے مزید معلومات یا خالص صداقت معلوم کرنے کے لئے بہر حال اختیار کرنے تھے مگر میں ان سب امور سے قطع نظر کرتا ہوں اور قارئین کے انفرادی رجحان یا ذوق پر معاملہ چھوڑتا ہوں تاہم اگر کسی دوست کومزید تجسس ہو تو مؤخر الذکر امر کے بارہ میں واقعاتی نقشے اشترا کی انقلاب کی تاریخ یاHISTORY OF THE PRIESTCRAFT IN ALL AGES ” ہسٹری آف دی پر یسٹ کرافٹ ان آل ایجے میں بکثرت مل سکتے ہیں جن کا مطالعہ خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔