مذہب کے نام پر خون — Page 118
66 مذہب کے نام پرخون مہلت اور معافی نامہ کا ایک فرمان عام آخر پر یہ باب ختم کرنے سے پہلے اگر میں اس عام مہلت اور معافی نامہ کا ذکر نہ کروں جسے جاری کرنے کے امکان کا مودودی صاحب اظہار فرما چکے ہیں تو یہ ان سے نا انصافی ہوگی جیسا کہ میں نے باب کی ابتداء میں ہی اس رائے کا اظہار کر دیا تھا کہ میرا خیال ہے کہ مودودی حکومت اقتدار حاصل کرتے ہی ایک عام فرمان جاری کرے گی اور یہی دستور ہر انقلاب حکومت کا ہوا کرتا ہے اور اس فرمان کے مطابق مسلمانوں کو بعض مخصوص عقائد مد نظر رکھتے ہوئے بحیثیت مسلمان رجسٹر ہونا پڑے گا۔کم و بیش اسی مضمون کے فرمان جاری کرنے کے امکان کا اظہار مودودی صاحب نے اپنی کتاب ” مرتد کی سزا۔۔۔۔۔کے آخر میں فرمایا ہے۔فرق یہ ہے کہ میرے نزدیک تو جولوگ اس وقت مودودی اصطلاح کے مطابق مسلمان قرار نہیں دیئے جاسکیں گے وہ بہر حال تہہ تیغ کئے جائیں گے مگر مودودی صاحب نے اس امکان کا ذکر کیا ہے کہ چونکہ اس طرح ایک بے نظیر اور بے شمار قتل عام لازم آئے گا اس لئے ممکن ہے ان کو فی الفور قتل کرنے کی بجائے صرف امت سے خارج کر کے کا فرذمیوں کی طرح زندہ رہنے پر مجبور کرنے کو ہی کافی سمجھا جائے لیکن اس کے بعد اگر بقیہ مسلمانوں میں سے کوئی مسلمان اعتقاداً یا عملاً کافر ہو تو اسے بہر حال قتل کیا جائے۔مگر مولانا کے اس شاہانہ معافی نامہ کے باوجود میں نے اپنے پیش کردہ نقشہ میں جو قتل عام کا مختصر سا خاکہ کھینچا ہے اس کی بعض وجوہ ہیں :۔ا۔اول تو یہ کہ خود مولانا کی طرف سے بھی کسی یقینی معافی نامے کا اعلان نہیں ، مشکل سے صرف ایک امکانی حل کا ذکر ہے اور مجھے یقین ہے کہ حصول اقتدار کے بعد اس نرمی کے سلوک کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوگا کیونکہ خود مولا نا ہی کے الفاظ میں :۔حکومت اور فرمانروائی جیسی کچھ بد بلا ہے ہر شخص اس کو جانتا ہے۔اس کے حاصل ہونے کا خیال کرتے ہی انسان کے اندر لالچ کے طوفان اٹھنے لگتے ہیں۔خواہشات نفسانی یہ چاہتی ہیں کہ زمین کے خزانے اور خلق خدا کی گردنیں اپنے ہاتھ میں آئیں تو دل کھول کر خدائی کی جائے لے “ حقیقت جہاد صفحہ ۱۵