مذہب کے نام پر خون — Page 113
۱۱۳ مذہب کے نام پرخون مودودی دور حکومت کی ایک امکانی جھلک تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا! گزشتہ صفحات کے مطالعہ سے قارئین پر وہ تصور خوب واضح ہو چکا ہوگا جو مولانا مودودی اسلام، اسلام کے رسول ، اسلام کی اشاعت اور اسلام کے اقتدار کے بارہ میں رکھتے ہیں۔اب میں ان صفحات میں اس امکانی مودودی حکومت کا ایک مختصر سا خاکہ کھینچ کر دکھاتا ہوں جو مودودی صاحب کے حصول اقتدار کے بعد کسی اسلامی یا غیر اسلامی ملک کے پردہ پر رونما ہوگی۔میرے غیر اسلامی کہنے پر تعجب نہ کریں کیونکہ حقیقت یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ پہلے کسی اسلامی ملک میں ظہور پذیر ہونے کی بجائے یہ انقلاب کسی غیر مسلم اکثریت کے ملک میں ظاہر ہو جائے کیونکہ جب ہر مسلم پارٹی اپنے اپنے ملک میں یہ مزعومہ اسلامی انقلاب لانے کی کوشش میں مصروف ہوگی اور حصول اقتدار کا ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا جارہا ہوگا تو کون کہہ سکتا ہے کہ کہاں یہ انقلاب پہلے آئے گا ؟ سعودی عرب میں یا غانا میں ؟ مصر میں یا لبنان میں؟ پاکستان میں یا ہندوستان میں؟ بہر حال جب بھی جس طرح بھی اور جہاں بھی یہ اسلامی حکومت رونما ہوگی اس کے کچھ مخصوص نقوش ہوں گے جن پر اس وجود کے طرزفکر کی نہ مٹنے والی مہر ثبت ہوگی جس کے ذہن نے اس کا تصور قائم کیا اور جس کی کوششیں تصورات کے عالم سے اسے عالم وجود میں لے آئیں۔سب سے پہلا عملی قدم جو حصول اقتدار کے بعد اٹھایا جائے گا وہ غالباً یہ ہوگا کہ اسلام کے عنوان کے تحت مودودی