مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 112

مذہب کے نام پرخون مارا گیا تھا۔مگر یہ تو ضمنا مجھے ایک بات یاد آ گئی تھی جو میں نے کردی کیونکہ اس سے میرے اس نظریہ کو مزید تقویت پہنچتی ہے کہ مودودیت میں اشتراکیت کا رنگ غالب ہے۔کچھ بعید نہیں کہ مولانا نے کچھی عمر میں لینن یا مارکس کے بعض اردو ترجمے پڑھ لئے ہوں اور آئندہ زندگی کے تصورات ڈھالنے میں انہوں نے ضرورت سے زیادہ کام کیا ہو مگر اس ذکر کو میں چھوڑتا ہوں۔اس وقت اصل مبحث یہ نہیں تھا۔میں مولانا مودودی کی قتل مرتد کی وہ توجیہ لکھ رہا تھا جسے سننے کے بعد پھر میرا یہ حق نہیں رہتا کر قتل مرتد کے عقیدہ کو بھی اشاعت اسلام کی پالیسی کا ایک جز بناؤں۔چنانچہ میں نے ایسا نہیں کیا اور محض تین نکاتی پروگرام پیش کیا ہے۔پس اب اس حصہ مضمون کو ختم کرتا ہوں مگر جانے سے پہلے مودودی صاحب مجھے اجازت دیں کہ ان کی پیش کردہ مندرجہ بالا تو جیہہ سے متعلق ایک دو سوال پیش کر دوں۔وہ سوال یہ ہیں کہ :۔اول :۔اگر آپ کا یہ دعویٰ درست ہے کہ قتل مرتد کا اصل مقصد یہی ہے کہ آپ ایسے لوگوں کے لئے اپنی جماعت کے اندر آنے کا راستہ بند کر دینا چاہتے ہیں تو یہ فرما ئیں کہ عام انسانی طریق پیدائش کے ذریعہ اس مزاج کے جو مسلمان آپ کی سوسائٹی کے اندر مسلسل داخل ہوتے رہیں گے ان کی روک تھام کے لئے آپ نے کیا تجویز سوچی ہے اور دوم :۔اگر عین حکمت و دانش یہی ہے کہ ہر اس شخص کو جو جماعت کے اندر آنا چاہے پہلے ہی مطلع کر دیا جائے کہ یہاں سے پلٹ کر جانے کی سزا موت ہے تو وہ کون سے ذرائع ہیں جن کو اختیار کر کے پیدائش سے پہلے ہی مسلمانوں کو خبر دار کر دیا جائے گا کہ اگر آنا ہے تو ” سومر تبہ سوچ کر آؤ لازم تھا کہ خلاف فطرت عقائد کی توجیہات بھی خلاف فطرت ہی ہوں۔