مذہب کے نام پر خون — Page 111
مذہب کے نام پرخون ممالک پر حملہ کر دیا جائے۔(۲) کافروں کو مسلمانوں میں تبلیغ سے منع کر دیا جائے۔(۳) کافروں کو کافروں میں تبلیغ سے منع کر دیا جائے۔اس کے علاوہ میرے نزدیک لاز ماقتل مرتد کا مسئلہ بھی اسی پالیسی کا جز ہے اور دراصل یہ چار نکاتی پروگرام کہلانا چاہیے تھا مگر مشکل یہ ہے کہ مولا نا کو مجھ سے اتفاق نہیں۔میرے نزدیک یہ اس پالیسی کا حصہ اس لئے ہے کہ طبعا قتل کے خوف سے بہت سے مسلمان دوسرے مذاہب اختیار کرنے سے رک جائیں گے۔مثلاً پچھلے دنوں پاکستان میں ایک خاصی تعداد میں مسلمانوں نے عیسائیت اختیار کی۔اگر یہ طریق قتل رائج ہوتا تو شائد مشکل سے ان مرتدین میں سے ایک آدھ ہی ایسا راستباز نکلتا کہ منافق بن کر زندہ رہنا پسند نہ کرتا مگر مولانا کے نزدیک یہ اس پالیسی کا حصہ نہیں ہے اور اس کا مقصد یہ نہیں کہ اس طرح مسلمانوں میں منافق پیدا کئے جائیں۔چنانچہ لکھتے ہیں :۔قتل مرتد کو یہ معنی پہنانا بھی غلط ہے کہ ہم ایک شخص کو موت کا خوف دلا کر منافقانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔دراصل معاملہ برعکس ہے۔ہم ایسے لوگوں کے لئے اپنی جماعت کے اندر آنے کا دروازہ بند کر دینا چاہتے ہیں جو تکون کے مرض میں مبتلا ہیں اور نظریات کی تبدیلی کا کھیل تفریح کے طور پر کھیلتے رہتے ہیں۔۔۔لہذا یہ عین حکمت و دانش ہے کہ ہر اس شخص کو جو اس جماعت کے اندر آنا چاہے پہلے ہی مطلع کر دیا جائے کہ یہاں سے پلٹ کر جانے کی سزا موت ہے تا کہ وہ داخل ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچ لے کہ اسے ایسی جماعت میں داخل ہونا چاہیے یا نہیں۔اس طرح جماعت میں آئے گا ہی وہ جسے کبھی باہر جانا نہ ہوگالے ،، مجھے یاد ہے قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان کی اشترا کی پارٹی کا بھی بعینہ یہی طریق تھا وہ اپنی خفیہ سوسائٹیوں کا ممبر بنانے سے پہلے ہر آنے والے کو یہ تنبیہ کردیا کرتے تھے کہ میاں ! باہر جانے کی سزا موت ہوگی۔زراعتی کالج لائلپور کا ایک طالب علم جسے میں جانتا تھا بے چارہ اسی جرم میں مرتد کی سز ا صفحه ۵۱، ۵۲۔