مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 107

1+2 مذہب کے نام پرخون کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے تو بہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا اگر وہ اس دعوئی میں سچے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کی طاقت سے دلوں کے زنگ کو دور کیا تھا تو پھر یہ جھوٹ ہے کہ زبر دستی کسی کے اندر ایمان اتار دینا قانون فطرت کے تحت ممکن نہیں۔اور اگر یہ سچ ہے اور یہی سچ ہے تو پھر وہ جھوٹ تھا کہ میرے آقا نے تلوار کی دھار سے قلوب کے زنگ کو کھر چاتھا۔مگر ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ اپنے لئے تو پیمانہ فطرت ہے اور آقا" کے اخلاق کو ہر غیر فطری پیمانے سے ناپا جا رہا ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگا بیٹھے تھے تو کم از کم اخلاق اور وفا کا تقاضا یہ تھا کہ پھر خود بھی اسی الزام کی چھری کے نیچے اپنی گردن رکھ دیتے ،صحابہ رضوان اللہ علیہم کے عشق کا تو یہ حال تھا کہ ہر اس وار کو جو ان کے محبوب آقا پر کیا جاتا تھا اپنے ہاتھوں پر، اپنے دلوں پر لیتے تھے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ جنگ احد کے موقع پر حضرت طلحہ کا ہاتھ ان تیروں کو روک روک کر جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھینکے گئے تھے ہمیشہ کے لئے بے کار ہو گیا تھا مگر مولانا کا یہ حال ہے کہ تیر روکنے کا تو کیا سوال آنحضرت کے شدید ترین دشمنوں کی ہمنوائی میں آپ پر مہلک اعتراضوں کے تیر برسا رہے ہیں اور جب وہی تیر خود ان کی طرف پھینکے جاتے ہیں تو دامن بچا کر الگ جا کھڑے ہو جاتے ہیں۔تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيری۔۔۔یہ تو بہت بری تقسیم ہے! ضِيزُى قتل مرتد ظلم نہیں رحم ہے یہ بہت ہی بری تقسیم ہے مگر تقسیم تو تقسیم کرنے والے پر منحصر ہوا کرتی ہے اور تقسیم کرنے والے کی طرز فکر اپنے فکر کی ہر تخلیق پر اپنی مہر ثبت کرتی چلی جاتی ہے۔جس طرح ایک صانع یا ایک مصور یا ایک شاعر اپنی صنعت یا تصویر یا شعر سے پہچانا جاتا ہے اور جس طرح وہ صنعتیں یا تصاویر یا اشعار مختلف حالات اور کیفیات کا نتیجہ ہونے کے باوجود ایک خاص رنگ اپنے بنانے والے کا اپنے اندر رکھتے ہیں اسی طرح مودودی صاحب کی بھی ہر تخلیق پر ان کا ایک خاص رنگ غالب ہے اور یہ رنگ سرخ ہے۔ہر دیکھنے والا اس رنگ کو سرخ ہی دیکھتا ہے اور یہی وہ رنگ ہے جس میں مودودی آنکھ اسلام کو رنگین دیکھنے کی عادی بن چکی ہے۔مگر خدا جانے کیوں کبھی کبھی مولا نا اس رنگ کا نام سبز