مذہب کے نام پر خون — Page 95
۹۵ مذہب کے نام پرخون اپنی محفل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق مندرجہ بالا ناپاک الفاظ استعمال کئے۔اس بد بخت کا مطلب یہ تھا کہ مدینہ واپس جا کر وہ نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو مدینہ سے نکال دے گا۔یہ بات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی اور آپ نے تحقیق فرمائی تو یہ لوگ جھوٹ بول گئے اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو عمر لڑکے کی گواہی پر اعتبار کر لیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعہ سورۃ المنافقون میں یہ معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح فرما دیا اور اس گواہی کی تصدیق فرمائی۔یہ ایک ایسا جرم تھا کہ جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر محبت رکھنے والے کو شدید غیرت آجاتی ہے اور دل کھولنے لگتا ہے اور طبعاً انسان یہ سوچتا ہے کہ کم از کم اس بد بخت کو تو ضرور کوئی سزا دی جائے گی کیونکہ اس کا جرم صرف جرم ارتداد ہی نہیں رہا بلکہ یہ ذلیل ترین مرتد دنیا کے معزز ترین رسول کے خلاف انتہائی گستاخی کا مرتکب ہوا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ یہ کلمات اس نے ایک فوج کشی کے دوران میں کہے جو قوموں کی زندگی میں ایک ہنگامی دور ہوا کرتا ہے اور ایسے وقت میں سپہ سالار کے خلاف ایسے الفاظ صریح غداری کے مترادف سمجھے جاتے ہیں جس کی سزا موت ہے۔خصوصاً ایک مخصوص پارٹی میں بیٹھ کر ایسی بات کرنا تو اور بھی زیادہ بھیانک جرم بن جاتا ہے اور ایک سازش کا پستہ دیتا ہے مگر کیا اس موقع پر ایک رنج اور غصہ سے بھرے ہوئے دل کو یہ پڑھ کرسخت حیرت نہیں ہوتی کہ کوئی ایسی سزا نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمائی گئی اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تجویز فرمائی۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی جناب مودودی صاحب یہ تاویل بھی نہیں کر سکتے کہ اس وقت کمزوری کا دور تھا اور اس شخص کی طاقت بہت زیادہ تھی کیونکہ یہ دو تو خودمولانا کے الفاظ میں وہ دور تھا:۔جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے تلوار ہاتھ میں لی۔۔۔۔۔تو رفتہ رفتہ 66 بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا۔طبیعتوں سے فاسد مادے خود بخو دنکل گئے۔چنانچہ یہ اسی تلوار کے دور کی بات ہے جبکہ بدی و شرارت“ کا زنگ چھوٹ رہا تھا اور طبیعتوں سے فاسد مادے نکل رہے تھے۔