مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 92

۹۲ مذہب کے نام پرخون لیکن مودودی صاحب کا عقیدہ اس کے بالکل برعکس ہے۔خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے جھوٹے ہیں بہت برا کرتے ہیں۔مودودی صاحب کا اصرار ہے کہ ایسا ہی کرو۔دل سے بے شک نہ مانومگر منہ سے یہی گواہی دیتے رہو کہ حمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا تعالیٰ کے رسول ہیں ورنہ گردن مار دیئے جاؤ گے۔چنانچہ راستی پسندی کا طعنہ دیتے ہوئے ایسے مرتد سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:۔وہ اگر ایسا ہی راستی پسند ہے کہ منافق بن کر رہنا نہیں چاہتا بلکہ جس چیز پر اب ایمان لایا ہے اس کی پیروی میں صادق ہونا چاہتا ہے تو اپنے آپ کو سزائے موت کے لئے کیوں پیش نہیں کرتا ؟“ یه راستی پسندی کا طعنہ دے کر منافقت کی تلقین کرنا بھی مولانا کا شاہکار ہے۔پس خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جھوٹو منافق نہ بنو اور مولانا کا ارشاد ہے راست باز آئے کہیں کے ، منافق بن کر جان کیوں نہیں بچاتے ؟ اور خدا تو فرماتا ہے کہ اس قسم کی منافقت لوگوں کو راہ خدا سے روکتی ہے (اور اسلام کے لئے تو سخت نقصان دہ ہے) مگر مولانا کا اصرار ہے کہ اگر ایسے مرتدین کو سچ بولنے کی اجازت دے دی جائے تو اسلام قائم ہی نہیں رہ سکتا اس طرح تو کوئی اجتماعی نظام کبھی دنیا میں چل نہیں سکتا۔“ کیا اس اختلاف کے بارہ میں کسی رائے زنی کی ضرورت رہتی ہے؟ میں نے اس باب کے شروع میں یہ بحث اٹھائی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز قتل مرتد کے غیر فطری اور غیر منصفانہ نظریہ کے قائل نہ تھے اور اس امر کا اظہار کیا تھا قرآن کریم اس بارہ میں آپ کے اسوہ پر غیر مشکوک روشنی ڈالتا ہے۔پس آئیے اب ہم اس مسئلہ پر قرآن کریم سے فیصلہ طلب کریں کیونکہ قرآنی فیصلہ سے بہتر اور یقینی اور کوئی فیصلہ نہیں۔سورۃ المنافقون (جس کی چند آیات او پر نقل کی گئی ہیں ) ہی دراصل وہ سورۃ ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا۔یہ سورۃ قتل مرتد کے مسئلہ کو بحیثیت مسئلہ ہی واضح نہیں کرتی بلکہ اس بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو بھی پیش کرتی ہے اور مسئلہ کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے ہر شک رفع کرتی ہے۔اس سورۃ میں یقینی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے مرتدین کی خبر دی گئی تھی جو منافق بن کر ل مرتد کی سزا صفحه ۵۳