مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 2

مذہب کے نام پرخون ہاتھ بھی خون سے رنگین ہوئے اور نیرو کے بھی۔اور ہلاکو اور چنگیز کے ہاتھوں بغداد کی تباہی آج تک تاریخ کے اوراق کو شفق رنگ بنائے ہوئے ہے۔یہ خون کبھی عزت و ناموس کے نام پر کئے گئے کبھی بغض و عناد کی بناء پر کبھی رزق کی تلاش میں نکلی ہوئی فاقہ کش قوموں نے یہ مظالم ڈھائے اور کبھی محض تسخیر عالم جابر شہنشاہوں کا مطمح نظر تھی۔پھر ایسا بھی بہت مرتبہ ہوا کہ یہ خون ریزیاں خود خدا کے ہی نام پر کی گئیں اور مذہب کو آڑ بنا کر سفا کا نہ بنی نوع انسان کا خون بہایا گیا۔یہ سب کچھ ہوا اور آج بھی ہو رہا ہے اور اپنے کردار کا یہ رخ دیکھ کر انسان کا دل بسا اوقات یاس و ناامیدی سے بھر جاتا ہے اور وہ سوچنے لگتا ہے کہ کیا اسی لئے انسان کو پیدا کیا گیا تھا ؟ ایک مذہب تھا کہ جس سے یہ توقع تھی کہ انسان کو انسانیت کے آداب سکھائے گامگر خود اس کا دامن بھی خون آلود نظر آتا ہے۔یہ سوال طبعاً دل میں پیدا ہوتا ہے اور معاً خلق آدم کے اس واقعہ کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے جس کا ذکر قرآن اور بائیبل دونوں میں موجود ہے۔قرآن کریم اس واقعہ کو یوں بیان فرماتا ہے کہ:۔وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (البقرة : ۳۱) اس وقت کو یاد کر ، جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔فرشتوں نے کہا کہ کیا تو وہاں ایک ایسا شخص بنائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے حالانکہ ہم تو تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور قدوسیت کے گن گاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا میں زیادہ جانتا ہوں ان امور کو جن کی تمہیں کچھ 66 خبر نہیں۔“ خدا تعالیٰ اور فرشتوں کا یہ مکالمہ پڑھ کر کچھ دیر کے لئے تو انسان ایک عجیب شش و پنج میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ مذہب کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے تو بظاہر فرشتوں ہی کی بات درست معلوم