مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 276

مذہب کے نام پرخون اور ثقافتوں کے خلاف نفرت کی آئینہ دار اور کھلی کھلی بغاوت کی پیدا وار ہیں۔انہیں بالعموم فاتر العقل لوگوں اور لاقانونیت کے علمبرداروں کی کارستانیوں سے تاویل کیا جاتا ہے۔ان چھوٹی چھوٹی مثالوں کے علاوہ دہشت گردی کی ایک خاص قسم بھی ہے جس کا تعلق مافیا کی اس پر تشد دجد و جہد سے ہے جو اس نے اقتدار پر قبضہ جمانے اور غلبہ حاصل کرنے کے لئے جاری کی ہوئی ہے۔یہ وہ دہشت گردی ہے جسے مافیا کے مختلف طبقوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھی جاری رکھا ہوا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ یہ دہشت گردی در اصل حصول اقتدار کی جد و جہد کا ہی حصہ ہے اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً سیاسی ہی ہے۔جب ہم نام نہاد اسلامی دہشت گردی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس دہشت گردی کے تعلق میں اگر چہ ظاہری طور پر تو نام اسلام کا ہی لیا جارہا ہے لیکن اس کے پس پردہ بعض سیاسی قوتیں اپنی مطلب براری کے لئے مصروف کار ہیں۔ان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ مذہب کی آڑ میں سیاسی فوائد حاصل کریں اور لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اقتدار پر قبضہ جمائیں اور اسی بہانے اسے مستحکم سے مستحکم تر کرتے چلے جائیں۔پھر نام نہاد اسلامی دہشت گردی کے تعلق میں ایک غور طلب بات یہ ہے کہ اکثر و بیشتر حالتوں میں پس پردہ تار ہلانے اور سیاسی فائدے اٹھانے والے خود مسلمان بھی نہیں ہوتے۔ان کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ خود آگے آئے اور نمایاں ہوئے بغیر مسلمانوں کو دہشت گردی پر اکسائیں اور اس طرح اپنا اُلّو سیدھا کریں۔اب ہم نام نہاد اسلامی دہشت گردی کی بعض مخصوص مثالوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تا کہ با قاعدہ تشخیص کے ذریعہ اندرونی مرض کا پتہ لگایا جا سکے۔سب سے پہلے ہم ایران کی مثال لے کر یہ دیکھتے ہیں کہ خمینی ازم کیسے معرض وجود میں آیا۔یہ سب جانتے ہیں کہ شاہ کے زمانہ اقتدار میں وہاں اقتصادی سرگرمی اور گہما گہمی کا دور دورہ تھا۔صنعتی اور اقتصادی ترقی کے انتہائی ٹھوس اور کارآمد منصوبوں پر عمل درآمد کے نہایت محتاط اقدامات ملک کے خوش آئند اور درخشندہ مستقبل کی ضمانت دے رہے تھے اور محسوس یوں ہو رہا تھا کہ عنقریب خوشحالی اور فارغ البالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔لیکن کیا انسان محض روٹی کے سہارے، جو سیری اور سیرابی کی ضامن ہو ہر لحاظ سے ایک مطمئن