مذہب کے نام پر خون — Page 236
۲۳۶ مذہب کے نام پرخون جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور قرآن مجید میں کوئی تناقض نہ ہو تو ایسی حدیث مستند تسلیم کی جاتی ہے۔(ب) اس مسلمہ حقیقت کے بارہ میں دورائیں ہو ہی نہیں سکتیں کہ جب کبھی کوئی نام نہاد حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جائے لیکن وہ قرآن مجید کے واضح حکم سے ٹکراتی ہو یعنی اس سے متناقض ہو تو ایسی حدیث کو جھوٹی حدیث قرار دے کر مستر د کر دیا جاتا ہے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر مشتمل تسلیم نہیں کیا جاتا۔(ج) اگر ایسی کسی حدیث سے قرآن مجید کے کسی حکم کی واضح خلاف ورزی نہ ہوتی ہو اور دونوں میں مطابقت کی گنجائش موجود ہو تو بہترین طریق یہی ہے کہ ایسی حدیث کو مستر د کر نے سے پہلے دونوں میں مطابقت کی راہ تلاش کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے۔(د) ایک ایسی حدیث کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتی ہو قرآن کے ساتھ مطابقت تلاش کرنے میں اس امر کو ہر آن ذہن میں مستحضر رکھنا ضروری ہے کہ ایسی حدیث کی خاطر قرآن مجید کی واضح تعلیمات کے بارہ میں کسی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے بلکہ مخلصانہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ حدیث کی ایسی تشریح کی جائے جو تعلیمات قرآنی کے عین مطابق ہو۔پس جب بھی کبھی کسی حدیث کے بارہ میں شبہ ہو تو اسے قرآن مجید کی کسوٹی پر گسنا اور اس کے مطابق اسے پرکھنا ضروری ہے۔(ر) اگر قرآن مجید اور حدیث میں کوئی تناقض نہ ہو تو اس امر کی تعیین کہ معتبر ہونے کے لحاظ سے یہ کس درجہ کی حدیث ہے اس کے ماخذوں اور راویوں کے سلسلہ اسماءالرجال کی صحت و اصابت کے مطابق لیا جائے گا۔(س) ایسی حدیث کا دوسری مستند اور بہت وسیع پیمانے پر معتبر تسلیم کی جانیوالی احادیث سے بھی موازنہ کیا جائے گا تا کہ یہ تسلی ہو سکے کہ یہ حدیث دوسری حدیثوں سے متناقض نہیں ہے۔(ص) اس ضمن میں آخری بات یہ ہے کہ کسی حدیث کے مستند ہونے کی تحقیق و تفتیش کا ایک قابل اعتمادطریقہ یہ بھی ہے کہ خود اس حدیث کی داخلی شہادت کا بہت تنقیدی نظر سے مطالعہ کیا جائے۔