مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 237

۲۳۷ مذہب کے نام پرخون اگر حدیث کے مندرجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم المرتبت تشخص سے ٹکراتے ہیں جو آنحضور کے طرز عمل سے ابھرتا ہے اور جس کی آنحضور کی حیات طیبہ کے ایک ایک لمحہ سے تائید و توثیق ہورہی ہے تو ایسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط طور پر منسوب ہونے کی وجہ سے یا منطق کے اصولوں اور عقل عمومی کے برخلاف ہونے کی بناء پر مستر دکر دی جائے گی۔عکرمہ سے مروی زیر بحث حدیث مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی میں اب ہم اس زیر بحث حدیث کا جائزہ لیتے ہیں ، حدیث یوں بیان کی جاتی ہے :- عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: أُتِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِزَنَادِقَةٍ فَأَحْرَقَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُخْرِقْهُمْ، لِنَهْي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ وَلَقَتَلْتُهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَلَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ عکرمہ سے مروی ہے کہ بعض زندیق حضرت علی کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے انہیں زندہ جلا دیا۔حضرت ابن عباس تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو میں انہیں ہرگز نہ جلا تا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ اس مناہی کے مطابق کہ اللہ کے عذاب سے (کسی کو) عذاب نہ دو بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے مطابق کہ جواپنادین بدل دے اسے قتل کر دو۔“ یہ حدیث الفاظ کی کسی قدر تبدیلی کے ساتھ ترمذی، ابوداؤد، النسائی ، اور ابن ماجہ کے مجموعہ ہائے احادیث میں بھی ملتی ہے۔قرآن مجید سے تناقض ایک فہیم اور سمجھدار انسان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ اس حدیث اور قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات میں کوئی مطابقت معلوم کر سکے :- لے سورة البقرة : آیات ۷ ۱۰۰،۵ ،۲۵۷،۲۱۸،۱۰۹، ۲۷۳ سورۃ آل عمران : آیات ۲۱، ۸۶،۷۳ تا ۱۴۵،۹۲ جامع صحیح بخاری کتاب استتابة المرتدين و المعاندين باب حكم المرتد و المرتدة