مذہب کے نام پر خون — Page 226
۲۲۶ مذہب کے نام پرخون وَ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَبِ أمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا أُخِرَةُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (آل عمران: ۷۳) اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ مومنوں پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر دن کے ابتدائی حصہ میں تو ایمان لے آؤ اور اس کے پچھلے حصہ میں اس سے انکار کر دو۔شاید اس ذریعہ سے وہ ( یعنی مسلمان اپنے دین سے ) پھر جائیں۔اس آیت میں اہل کتاب سے مراد یہود مدینہ ہیں۔ان کی یہودیانہ انداز کی یہ ایک چال تھی کہ اس طرح مسلمانوں میں شبہات پیدا کئے جائیں۔وہ یہ امید رکھتے تھے کہ شاید اس طرح بعض مسلمان شبہات کا شکار ہو کر اسلام ترک کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔اگر ارتداد کی سزا موت ہوتی تو پھر یہودیوں کے لئے اپنے اس منصوبہ پر عمل پیرا ہونا کیونکر ممکن ہو سکتا تھا۔اگر ارتداد کے جرم میں کسی ایک کو بھی قتل کیا گیا ہوتا تو دوسروں کے لئے یہ امر ایک روک بن جاتا اور وہ اس مرتد کے نقش قدم پر چلنے سے باز رہتے۔ایسی صورت میں یہودی ایسا منصوبہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ان کا یہ منصو بہ صاف بتارہا ہے کہ ارتداد کی سز اقتل کا نظریہ بہت بعد کے زمانہ کی پیداوار ہے۔قتل کی سزا کے حامیوں کا کہنا یہ ہے کہ اس آیت میں صرف یہودیوں کے ایک منطقیانہ نظریہ کا ذکر کیا گیا ہے جس پر انہوں نے کبھی عمل نہیں کیا۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ محض ایک نظریاتی بات تھی تو بھی یہ آیت اس امر کا ایک بین ثبوت ہے کہ ارتداد کی اس دنیا میں کوئی سزا مقرر نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی ایسی سزا ( یعنی قتل کی سزا) مقرر ہوتی تو یہودی ایسے کسی نظریہ کو کیوں ہوا دیتے۔مزید برآں یہ کہنا ہی غلط ہے کہ یہ نظریہ پر مبنی محض ایک مفروضہ تھا کیونکہ کتب احادیث میں اس امر کا ذکر موجود ہے کہ خیبر اور عرینہ کے بارہ یہودی راہبوں کی طرف سے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا گیا تھا ( بحوالہ تفسیر بحر المحیط جلد دوم صفحہ ۴۹۳)۔تمام تفاسیر اس امر پر متفق ہیں کہ سورۃ التوبۃ ، فتح مکہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیانی زمانہ میں نازل ہوئی تھی۔اس سے یہ بات دو اور دو چار کی طرح ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتی کہ یہودیوں نے اپنے اس منصوبہ پر اُس زمانہ میں عملدرآمد کیا جبکہ اسلام عرب میں پوری مضبوطی کے