مذہب کے نام پر خون — Page 217
۲۱۷ مذہب کے نام پرخون دہرائیں اور بہ اصرار دہراتے چلے جائیں۔ان کو چاہیے کہ وہ خود اصل ماخذوں تک پہنچیں یعنی وہ قرآن مجید کی تعلیمات، احادیث نبوی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ کا براہ راست مطالعہ کریں تا کہ اصل حقیقت ان پر کھل سکے۔اس کتاب میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ ہم اس سارے مسئلہ کا ایک خاص نقطہ نگاہ سے جائزہ لیں اور وہ نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ہم یہ نہ دیکھیں کہ کسی زمانہ کے مسلمانوں نے کیا طرز عمل اختیار کیا بلکہ یہ دیکھیں کہ اس بارہ میں قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات کیا ہیں اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات اور اپنے عملی نمونہ کے ذریعہ ان تعلیمات کو کس رنگ اور کس پیرائے میں دنیا پر آشکار فرمایا۔کسی مذہب کی تعلیمات کو اس کے متبعین کے طرز عمل کی روشنی میں جانچنے کا رجحان اس لحاظ سے بہت گمراہ کن ہے کہ اس کے نتیجہ میں لوگ اکثر غلط نتائج اخذ کر کے اس مذہب کی اصل اور حقیقی تعلیمات کے بارہ میں عجیب و غریب نظریات اپنا لیتے ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔دنیا بھر میں اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ایک عرصہ کے بعد تمام مذاہب کے متبعین ان کا اثر قبول کرنا ترک کر دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بالآخر ان کے اعمال اپنے اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق نہیں رہتے ، مذہب کی تعلیم اور متبعین کے اعمال میں مطابقت مفقود ہو کر رہ جاتی ہے۔اس کی بہت سی مثالیں آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ہر کوئی آج کے زمانہ کے بدھسٹوں اور ابتدائی دور کے بدھسٹوں کے اعمال کا موازنہ کر کے اور اسی طرح ہند و حکومتوں کے اعمال وکردار کا جائزہ لے کر نیز دوسرے مذاہب کے موجودہ زمانہ کے متبعین اور ان کے ابتدائی پیروؤں کے افعال و اعمال کا باہم مقابلہ کر کے دیکھ سکتا ہے کہ ان میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے بعض جگہ تو اصل تعلیم اور متبعین کے اعمال و کردار میں فرق اتنا زیادہ نظر آتا ہے کہ دونوں میں کسی تعلق یا نسبت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مزید برآں یہ امر بھی بہت ضروری ہے کہ سیاست اور مذہب کو باہم خلط ملط نہ کیا جائے۔کسی قوم کے سیاسی کردار کو اس کے مذہب کی تعلیمات کا آئینہ دار نہیں سمجھنا چاہیے۔اگر چہ ہر قوم کا یہ فرض متصور ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تعلیم پر عمل پیرا ہو لیکن ایسی صورت میں جبکہ قوم ان تعلیمات کو