مذہب کے نام پر خون — Page 218
۲۱۸ مذہب کے نام پرخون فراموش کر بیٹھے اور من مانی کرنے پر اتر آئے تو اس کے متضاد کر دار کو اس کے مذہب کی تعلیم اپنے اندر منعکس کرنے والا آئینہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ ہے وہ پس منظر جس کی روشنی میں ہمیں عقیدہ قتل مرتد کے حامیوں کے دلائل کا جائزہ لینا ہے۔مرتد کی تعریف قرآن مجید کہتا ہے:۔وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا وَمَنْ يَرْتَدِدُ مِنْكُمُ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرُ فَأُولَبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة: ۲۱۸) اگر ان کی طاقت میں ہو تو تم سے لڑتے ہی چلے جائیں تاکہ تمہیں تمہارے دین سے پھرا دیں اور تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پھر جائے اور پھر کفر کی حالت میں مر بھی جائے تو ( وہ یادر کھے کہ ) ایسے لوگوں کے اعمال اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اکارت جائیں گے اور ایسے لوگ دوزخ ) کی آگ میں) پڑنے والے ہیں۔وہ اس میں ( دیر تک ) رہیں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ جو شخص بھی تلوار کے خوف سے ( یا سزا دہی کی تکلیف سے ڈرکر ) اسلام کو ترک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ایسا کرنا اور کر گزرنا اس کا بنیادی حق ہے۔دوسرے اس سے یہ امر بھی ظاہر وباہر ہے کہ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کو مرتد قرار دے۔خود اپنے آپ کو مرتد قرار دینے کا اختیار صرف اس شخص کو حاصل ہے جو اسلام کو ترک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔قرآن مجید میں کہیں بھی کسی کو مرتد قرار دینے کا حق دوسروں کو نہیں دیا گیا۔مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص اپنے مذہب کو ترک کرنے میں آزاد ہے لیکن اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسروں کو مرتد قرار دے۔اسلامی تعلیم کی رو سے نہ مذہبی علماء نہ مفتی و ملاں ، اور نہ کوئی غیر روادارانہ رویہ رکھنے والا فرد یا ایسی کوئی حکومت الغرض کوئی بھی کسی کو از خود گھڑ گھڑا کر مرتد نہیں بنا سکتا۔جو بھی مرتد ہو گا خود اپنی مرضی سے ہوگا کوئی دوسرا اسے زبر دستی مرتد نہیں ٹھہرا سکتا۔ارتداد کے متعلق قرآن مجید کی بعض دیگر آیات قرآن مجید اس ضمن میں مزید کہتا ہے:۔