مذہب کے نام پر خون — Page 167
۱۶۷ مذہب کے نام پرخون بک عظیم الشان اجماع کے ساتھ خصوصاً احرار ماہرینِ فن کے ہاتھوں احمدیوں کے دل پر چلائی جاتی تھی اب کس آزادی سے انہی لوگوں کے دل پر چلنے لگی جو یہ چھری چلانے میں مشاق سمجھے جاتے تھے۔یہ تو محض ایک ادنیٰ نمونہ ہے۔افسوس کہ میں جگہ کی قلت کی وجہ سے اس رسالہ کے صفحہ ۱۵ کی وہ عبارت درج نہیں کر سکتا جس کا عنوان ہے:۔”مرزائیوں قادیانیوں کی طرح دیوبندیوں وہابیوں کے عقیدوں کا مختصر نمونہ“ یہ عبارت بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اور شورش کا شمیری کی وہ عبارت بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے جو رسالہ ” کا فرساز ملا کے سرورق پر درج ہے:۔"جو شخص اکابر دیوبند کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر کرتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ شقی القلب ہے۔بد بخت ہے۔بد زبان ہے۔ذلیل ہے۔فروتر ہے۔بلکہ ہم یہاں تک کہنے کو تیار ہیں کہ وہ دھوپ چھاؤں کی اولاد ہے۔“ اس رسالہ کے صفحہ ے کی عبارت بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے جس میں شورش کاشمیری صاحب کے چٹان ۱۹۶۲ء کے مقالہ افتتاحیہ کی یہ دھمکی درج ہے کہ :- ان کا فرگروں سے ہماری یہ درخواست ضرور ہے کہ اپنی زبانوں کو بند کریں ورنہ ایسا نہ ہو کہ ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ہم یہ ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص ان لوگوں کو کافر کہے جو اس ملک میں ایک صدی یا اس سے بھی زائد عرصہ سے اسلام کے صحیح خدمت گذار ہیں۔۔۔کم سے کم مطالبہ یہ ہے کہ حکومت ان کی زبانیں بند کر دے۔ہمیں اس قسم کے فیض درجت حامی سنت۔مائی بدعت شیخ الحدیث اور ابوالفضل کہلانے والے پٹواریوں کی ضرورت نہیں۔یہ فتنہ پرداز ہیں اور فتنہ رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔“ پھر اسی رسالہ کے صفحہ 9 پر فی سبیل اللہ فساد کے زیر عنوان شورش کا شمیری صاحب کی ایک نظم درج ہے جو دلچسپی سے خالی نہیں۔اس میں بریلویوں پر دین فروشی کی روٹیاں کھانے اور