مذہب کے نام پر خون — Page 128
۱۲۸ مذہب کے نام پرخون قیمتی جائداد کو نذرآتش کر رہے تھے محض اس لئے کہ یہ ایک دلچسپ تماشہ تھا ( کیا اسی قسم کا تماشہ جیسے رومن امراء کالیسیم میں بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے؟ ناقل ) یا کسی خیالی دشمن سے - ،، بدلہ لیا جار ہا تھا۔پوری مشینری جو معاشرہ کو زندہ رکھتی ہے پرزہ پرزہ ہو چکی تھی لے ایک مسلمان کے دل میں اس دن کے ہولناک واقعات پر نظر ڈالتے ہی معاخیال پیدا ہوگا کہ جب اسلام بلا شبہ امن اور محبت کی تعلیم دیتا ہے تو پھر ایسا کیوں ہوا اور کیوں مذہبی راہنماؤں کے ایک مخصوص گروہ نے یہ قابل شرم حالات پیدا کر دیئے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم کی پیش کردہ مذہبی تاریخ سے ثابت کیا جا چکا ہے اس قسم کے فتیح افعال کبھی بھی مذہب کی خاطر نہیں کئے جاتے بلکہ مذہب کے نام پر کئے جاتے ہیں۔مذہب تو ایک قربانی کا بکرا ہوا کرتا ہے جو بدنامی کے داغ تھوپنے کے لئے استعمال ہوتا ہے پس پردہ مقاصد ہمیشہ کبھی تو اقتدار کی ہوس اور کبھی لیڈری کی خواہش کبھی نام و نمود اور کبھی بغض اور حسد ہوتے ہیں۔چنانچہ ۱۹۵۳ء کے فسادات کی چھان بین کے بعد تحقیقاتی عدالت کے فاضل جج بھی اسی قطعی نتیجہ تک پہنچے کہ احرار علماء نے مذہب کے نام پر جو غیر مذہبی افعال کئے ان کی اغراض بھی کچھ اور تھیں۔چنانچہ اسی ذکر میں وہ لکھتے ہیں:۔احرار کے رویہ کے متعلق ہم نرم الفاظ استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ان کا طرز عمل بطور خاص مکروہ اور قابل نفرین تھا اس لئے کہ انہوں نے ایک دنیاوی مقصد کے لئے ایک مذہبی مسئلہ کو استعمال کر کے اس مسئلہ کی توہین کی ہے “۔ان لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کریں اور پاکستان کے استحکام کے متعلق عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچا ئیں۔اس شورش کا مقصد واضح ہے کہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر فرقہ واراختلاف کی آگ کو بھڑ کا یا جائے اور مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کر دیا جائے گے ،، تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۹۳ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۲۷۸،۲۷۷ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۱۵۰ 66