مذہب کے نام پر خون — Page 119
119 مذہب کے نام پرخون ۲۔دوسری وجہ میرے اس یقین کی یہ ہے کہ اس معافی نامہ کو صادر فرمانے پر آمادگی میں مولانا سے ایک غلطی ہو گئی ہے جسے وہ جلد یا بدیر محسوس فرمالیں گے یا شاید ان کا ہم خیال اس طرف ان کی توجہ مبذول کروادے۔غلطی یہ ہے کہ اگر اسلامی قانون میں مرتد کی سزا قتل ہے اور وہ پیدائشی مسلمان بھی جو بڑے ہو کر اعتقاداً یا عملاً اسلام سے منحرف ہو چکے ہوں اس قانون شریعت کی رو سے واجب القتل ہیں تو مولانا کو یہ اختیار کہاں سے حاصل ہو گیا کہ وہ ان مجرموں کو معاف کرتے پھریں۔کیا وہ کوئی نئی شریعت بنا ئیں گے یا شریعت کے کسی حکم کو منسوخ یا تبدیل کرنے کا حق رکھتے ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر کوئی چارہ نہیں اس کے سوا کہ یا تو اس شریعت سے منحرف ہو کر خود مرتدین کے زمرہ میں جا بیٹھیں یا پھر بادل ناخواستہ قتل عام کا حکم جاری فرما ئیں خواہ کروڑوں کروڑ آدمی اس کی زد میں آئیں۔۳۔مولا نا ایک اور بات بھی بھول گئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب خود مولا نا کوتسلیم ہے کہ ان دوصورتوں میں سے کہ وو یا تو اسے اسٹیٹ میں تمام حقوق شہریت سے محروم کر کے زندہ رہنے دیا جائے یا پھر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جائے۔پہلی صورت فی الواقع دوسری صورت سے شدید تر سزا ہے کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لَا يَمُوتُ فِيْهَا وَلَا يَخيی کی حالت لے میں مبتلا رہے۔۔تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جب مولا نانرمی اور رحم کے مزاج میں ہوں تو دوصورتوں میں سے ایسی سزا تجویز فرمائیں جو فی الواقع دوسری صورت سے شدید تر سزا ہو۔ان وجوہ کی بناء پر میں مجبور تھا کہ اپنے پیش کردہ نقشہ کو اسی طرح پیش کروں جس طرح میں نے پیش کیا ہے کیونکہ مودودی حکومت کے ساتھ قتل و غارت کا تصور تشدد کی ایسی مضبوط آہنی زنجیروں سے جکڑا جا چکا ہے کہ خود ان زنجیروں کا خالق بھی اگر چاہے کہ انہیں کھول کر یا تو ڑ کر اس تصور کو الگ کر دے تو یہ اس کے قبضہ قدرت میں نہیں۔گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر ! حقیقت جہاد صفحه ۵۱