مضامین ناصر — Page 72
۷۲ ضروریات زندگی مہیا ہو سکیں۔غلامی کو یک قلم مٹا کر اسلام نے بنی نوع انسان کو صرف سیاسی اور تمدنی لحاظ سے ہی مساوات کے مقام پر کھڑا نہیں کیا۔اس سے اقتصادی عدم مساوات کو بھی دور کیا ہے اور Exploitation of man by man کو یکسر مٹا دیا اور یہ اصول جاری کیا کہ ہر انسان کی اقتصادی جد و جہد اپنے لئے ہونی چاہیے نہ کہ کسی غیر کیلئے اس جدو جہد میں انسان آزاد ہونا چاہیے نہ کہ غلام۔اسلام کے اقتصادی اصول مندرجہ ذیل عنوانوں کے نیچے آتے ہیں۔(۱) کسب معاش میں کامل آزادی اور مساوی حقوق جسمانی و دماغی قومی کی آزادانہ نشو و نما اسی کے ذیل میں آتا ہے۔(۲) اگر یہ آزادانہ انفرادی جدو جہد بعض افراد کی ضروریات پوری نہ کر سکے تو حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس کمی کو پورا کرے۔جو کوشش کے بعد رہ جاتی ہے یا اگر بعض افراد اس اقتصادی جدو جہد کے قابل نہ ہوں تو ان کا سارا بوجھ حکومت اپنے سر لے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان مقروض مرتا ہے تو اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے۔(۳) ایسے انتظام کے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ انفرادیت اور عائلی زندگی کے لطیف جذبات کچلے نہ جائیں۔(۴) یہ انتظام بین الاقوامی ہو۔ملکی نہ ہو۔(۵) یہ انتظام طوعی ہو جبری نہ ہو۔(۶) ایک حصہ جبری بھی ہے مثلاً زکوۃ ، مکاتبت وغیرہ۔غلامی کا انسداد اول آزادانہ کسب معاش کے راستہ میں غلامی ایک روک تھی۔غلام جو کچھ بھی کماتا ہے اپنے آقا کے لئے کماتا ہے۔اس کے پسینہ کی کمائی میں اس کا اپنا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔دنیا کی پرانی اور نئی سب تہذیبیں غلاموں کا خون چوس چوس کر اپنے اقتصادی عروج کو پہنچتی رہی ہیں۔یہ مضمون اپنی ذات میں ایک وسیع مضمون ہے اور تنگی وقت مجھے اس کی تفاصیل میں جانے کی اجازت نہیں دیتی بہر حال یہ ایک واضح بات ہے کہ غلامی کو مٹا کر اسلام نے تمام بنی نوع انسان کے لئے کسب معاش کے آزادانہ راستے کھولے ہیں۔