مضامین ناصر — Page 50
کہ ظاہری لحاظ میں بھی ان دونوں میں کوئی مشابہت ضرور ہوگی۔چنانچہ میں نے اس پر غور کیا تو مجھے چند ظاہری مشابہتیں نظر آئیں جو یہ ہیں۔تاریخی مطابقت (۱) جس طرح بدر کا زمانہ چودہ مارچ کو شروع ہوتا ہے (سیرۃ النبی مصنفہ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) اسی طرح مصلح موعود کی خلافت کا زمانہ بھی چودہ مارچ کو ہی شروع ہوتا ہے۔تیرہ مارچ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو جمع کیا کہ مجھے مشورہ دو کہ ہم یہ فیصلہ کن لڑائی لڑیں یا نہ لڑیں۔اسی طرح تیرہ مارچ ۱۹۱۴ء کو پورے ۱۲۹۱ سال بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ جمع ہوئے تا وہ فیصلہ کریں کہ مصلح موعود کو خلیفہ منتخب کریں یا نہ کریں جس طرح وہاں چودہ مارچ کو مشورہ کے بعد چودہ مارچ کو مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اور دوسرے احمدی احباب نے حضرت مصلح موعود کی بیعت کی اور اس طرح مصلح موعود کے زمانے کی ابتدا چودہ مارچ سے ہوئی۔مقاصد کی مطابقت (۲) پھر جب ہم ان پیشگوئیوں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو بدر کے متعلق قرآن مجید میں بیان کی گئیں ہیں تو ان میں ایک پیشگوئی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَيُرِيدُ اللهُ اَنْ تُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَفِرِينَ (الانفال: (۸) یعنی بدر کا نشان اس لئے ہوگا تا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ ہوتا کفر کی جڑیں کاٹ کر رکھ دی جائیں اور حق اپنی پوری شان کے ساتھ ظاہر ہو۔دوسری جگہ جنگ بدر کو یوم الفرقان بھی کہا گیا ہے کہ اس دن صداقت کھل جائے گی اور باطل بھاگ جائے گا۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو مصلح موعود کی خبر دی۔تو اس میں بھی لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْل الباطل کے مقابلے میں ہمیں بالکل یہی الفاظ نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مسیح موعود کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مصلح موعود کا نشان تجھے اس لئے عطا ہو گا۔تاکہ دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور