مضامین ناصر — Page 37
۳۷ ہی شامل ہو جاتی ہیں۔فَتَدَبَّرُوا) کیونکہ تزکیہ نفس کو دوسری قسم کے جہادوں پر برتری حاصل ہے کیسے صاف الفاظ میں جہادا کبر کی افضلیت ثابت کی گئی ہے۔مذکورہ بالا حدیث سے یہ دھوکہ نہ کھانا چاہیے کہ صحابہ کرام لفظ جہاد کو صرف جنگ کے لئے استعمال کرتے تھے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حقیقت جہاد سے اچھی طرح واقف تھے۔چنانچہ ایک روایت ہے قَالَ بَعْضُ الصَّحَابَةِ لِمَنْ سَأَلَهُ عَنِ الْغَزْوِ إِبْدَءُ بِنَفْسِكَ فَاغْزُهَا وَابْدَأُ بِنَفْسِكَ فَجَاهِدُ (لطائف المعارف لا بن رجب الحنبلی صفحه ۲۴۱ ) یعنی ایک صحابی سے کسی نے جنگ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے اپنے نفس سے جنگ کرو اور پہلے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرو پھر کسی اور جہاد کی فکر کرنا“۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ جہاد کے معنی ہیں خدا تعالیٰ کی پوری اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہوئے اس کی راہ میں اپنی تمام طاقتوں کا خرچ کرنا۔جہاد نفس، شیطان اور دشمن آزادی مذہب سے کیا جاتا ہے۔مجاہدہ نفس تمام جہادوں سے افضل ہے۔جو شخص اس جہاد کو تو چھوڑ دیتا ہے اور صرف دوسرے جہادوں کی طرف توجہ کرتا ہے وہ اسلامی تعلیم کے خلاف چلنے والا ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ مجاہدہ پنفس کا کیا طریق اور سلوک کی کونسی راہیں ہیں تو اس چھوٹے سے نوٹ میں اس کا تفصیلی جواب دینا محال ہے۔مختصر یہ کہ پڑھو قرآن، پھر پڑھو قرآن ، پھر پڑھو قرآن اور اس کے اوامر ونواہی پر غور کرو اور پھر اس تعلیم پر عمل کر و مجاہد نفس بن جاؤ گے۔جہاد کبیر دوسرے درجہ پر جہاد کبیر ہے اور یہ اسی پر فرض ہے جو پہلے جہادا کبر کر چکا ہو اور اس میں ایک حد تک کامیاب ہو چکا ہو جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جہاد کی ابتداء جہاد نفس سے کرنی چاہیے۔فرمایا وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (سورة الفرقان: 14) تو قرآن کریم کو لے کر کھڑا ہو اور قرآنی دلائل کے ساتھ ان کافروں سے جہاد کبیر کر اور ان تک اسلامی تعلیم پہنچا اور ان کے دلوں سے شیطانی تعلیموں کو مٹا ڈال کہ نور کے مقابلہ پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی۔اور اسے جہاد کبیر اس لئے کہا کہ فَإِنَّ مُجَاهَدَةَ