مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 38 of 239

مضامین ناصر — Page 38

۳۸ 66 السُّفَهَاءِ بِالْحُجَجِ اَكْبَرُ مِنْ مُجَاهَدَةِ الْاَعْدَاءِ بِالسَّيْفِ “۔( روح البیان ) جاہل کافروں کا مقابلہ دلائل کے ساتھ کرنا یقیناً تلوار سے دشمنوں کا مقابلہ کرنے سے افضل ہے۔اس آیت کریمہ میں جہاد کے معنی صرف اور صرف اشاعت اسلام کے ہی ہو سکتے ہیں۔یہ مگی آیت ہے اور جہاد بالسیف کی اجازت سے قبل نازل ہوئی تھی۔قرآن کریم نے بار بار اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مجاہدہ نفس کے بعد دلائل کے ساتھ اسلام کو پھیلانا بہت ضروری ہے۔ہم اس وقت تک حقیقی صفائی کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اپنے ماحول کو صاف نہ کر دیں۔پس مجاہدہ نفس کے بعد اشاعتِ اسلام بہت بڑا جہاد ہے اس لئے کہ ہمارا اپنا ماحول صاف ہو جائے اور ہم ہرقسم کی کدورتوں سے بچ جائیں اس لئے کہ مخلوق خدا راہ راست پر آئے اشاعت اسلام ایک اہم فریضہ ہے۔اشاعت اسلام کی خواہش دراصل مجاہدہ نفس میں سے ہی پھوٹتی ہے جب انسان حقوق اللہ کو کامل طور پر اور احسن طور پر بجالاتا ہے، جب انسان کامل توحید کو پکڑتا اور کامل اطاعت میں راحت پاتا ہے جب انسان احکام الہی کی پابندی کرتا ہے اور حقوق العباد منشائے الہی کے مطابق پورے کرتا ہے۔جب مجاہدہ نفس کرتے کرتے اسے پہلے خدا تعالیٰ سے محبت ہوتی اور پھر خدا تعالیٰ کے واسطہ سے اس کے بندوں سے اُسے اُلفت ہوتی ہے تو معا اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ سبحان اللہ مجھے کیا کیا روحانی نعمتیں میسر آئی ہیں مگر اُف غضب ہو گیا خدا تعالیٰ کے کتنے بندے ہیں جو ان نعمتوں سے محروم ہیں تب وہ آستانہ الہی پر جھکتا ہے اور گریہ وزاری کرتا ہے کہ اے خدا! تیرا بڑا احسان ہے کہ تو نے اپنے قرب اور اپنی رضا کی راہیں مجھ پر کھولیں اور بے انتہاء روحانی نعمتوں سے مجھے لطف اندوز کیا مگر اے ہادی خدا! تیرے کتنے ہی بندے ہیں جو خود تجھ سے بھی بے خبر ہیں روحانی نعمتوں کا تو کیا کہنا اے خدا! میری رہبری کر اور مجھ پر ان راہوں کو کھول جن سے میں تیری تعلیم کو تیرے اُن گمراہ بندوں تک پہنچا سکوں۔تب اسے الہام ہوتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ (الحج: ۷۹،۷۸)