مضامین ناصر — Page 32
۳۲ میں استعمال کیا گیا ہے یا اسلام نے ان عام معنوں کو محدود کر کے جہاد کو خاص معنوں میں استعمال کیا ہے؟ اسلام نے جہاد کے معنوں میں تو کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی۔البتہ ان چیزوں کو جن کے خلاف جہاد کی تلقین کی ہے اسلام نے تین میں محدود کر دیا ہے یعنی (۱) نفس کے خلاف جہاد کرنا ، (۲) شیطان کے خلاف جہاد کرنا اور (۳) دنیا سے شیطانی تعلیمات کو مٹا کر اسلامی تعلیمات کو رائج کرنا اور بعض استثنائی صورتوں میں جب کوئی اور چارہ نہ رہے تو پھر مذہبی آزادی کے دفاع کے لئے دشمن کے خلاف تلوار اٹھانا۔شیطان کا اپنی ساری قوتوں کو اس بات میں خرچ کرنا کہ اسلامی تعلیمات دنیا سے مٹ جائیں لغت کی رو سے ایک جہاد ہوگا مگر اسلامی اصطلاح میں یہ جہاد نہیں۔اسلامی اصطلاح میں جہاد صرف تین چیزوں کے خلاف اپنی ساری توجہ کو مبذول کرنے اور تمام طاقتوں کو خرچ کرنے کا نام ہے اور یہ تین چیزیں یہ ہے۔(۱) نفس امارہ بالسوء اور (۲) شیطان اور اس کی تعلیمات اور (۳) عدو ظاہر یعنی ایسا دشمن جو اسلام کو تلوار سے مٹانا چاہے۔اللہ تعالیٰ سورہ عنکبوت میں فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰) یعنی جو لوگ ہماری خاطر اور ہماری بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق جہاد کرتے ہیں ہم ان پر اپنے قرب کی راہیں کھول دیتے ہیں۔اس آیت کریمہ میں لفظ جَاهَدُوا کے مفعول کا ذکر نہیں اور ہر چیز جو مفعول بننے کی اہل ہو اس کا مفعول بن سکتی ہے۔لیکن گو جَاهَدُوا کے مفعول کا ذکر نہیں مگر جہاد کے ساتھ فینا کی قید لگا دی ہے جس کے معنی ہیں ہماری خاطر اور ہماری رضا کو حاصل کرنے کے لئے اور ہماری ہدایات کے مطابق اور یہ فینا کی قید ہی ہے جس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں جہاد کی تین چیزوں کے خلاف کیا جاتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا کی تفسیر تفسیر کشاف میں یوں کی گئی ہے اطلق الْمُجَاهَدَةَ وَلَمْ يُقَيّدْهَا بِمَفْعُولٍ لِيَتَنَاوَلَ كُلَّ مَا يَجِبُ مُجَاهَدَتَهُ مِنَ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ بِالسُّوءِ وَالشَّيْطَانِ وَاَعْدَاءِ الدِّينِ یعنی جَاهَدُوا کے لفظ کو مطلق رکھا ہے اور کسی مفعول کے ذکر سے اسے مقید نہیں کیا۔تا ہر وہ چیز جس کے خلاف مجاہدہ کرنا واجب ہے اس کا مفعول بن سکے۔یعنی