مضامین ناصر — Page 201
۲۰۱ تفسیر آیات۔سورۃ اخلاص لمصلہ (از افاضات حضرت امیر المومنین اصلح الموعود ایدہ اللہ الودود ) امیر الورود) الموعودايده بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ - (الاخلاص) میں اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہےشروع کرتا ہوں۔ہم ہر زمانہ کے مسلمان کو حکم دیتے ہیں کہ ) تو ( دوسرے لوگوں سے ) کہتا چلا جا کہ ( پکی اور اصل ) بات یہ ہے اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔اللہ وہ ہستی ) ہے جس کے سب محتاج ہیں (اور وہ کسی کا محتاج نہیں ) نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔اور (اس کی صفات میں ) اس کا کوئی بھی شریک کار نہیں۔تفسیر :۔اس سورۃ میں اختصار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کامل اور اس کی صفات اور شان کو بیان کر دیا گیا ہے۔اس طرح اپنے معنی میں یہ سورۃ قرآن کریم کا مکمل خلاصہ ہے کیونکہ قرآن کریم کے مضامین کا نقطہ مرکزی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو ثابت کیا جائے اور اس کی صفات اور جلالت شان کو بیان کیا جائے اور قل کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس خلاصہ کو یادر کھے۔اپنی نسلوں کو اس کی وصیت کرے اور دنیا میں اس کا اعلان اور اس کی اشاعت کرتا رہے یہاں تک کہ دنیا ایک مرکزی نقطہ پر جمع ہو جائے۔اس سورۃ میں تین امور پر روشنی ڈال کر اللہ تعالیٰ کی کامل تو حید کو پیش کیا گیا ہے۔بتایا کہ (۱) اللہ تعالیٰ موجود ہے (۲) اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں منفرد ہے یعنی وہ اکیلا ہے دو یا تین خدا نہیں اور (۳) وہ پاک ذات واحد فی الصفات اور بے مثل ہے۔اس کی صفات میں کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں۔