مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 202 of 239

مضامین ناصر — Page 202

چنانچہ فرمایا اللهُ اَحَدٌ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ ہر رنگ میں اور ہر طرح وہ اپنے وجود میں ایک ہی ہے۔نہ وہ کسی کی ابتدائی کڑی ہے اور نہ آخری سرا۔نہ کسی کے مشابہ ہے اور نہ کوئی اس کے مشابہ۔وہ ایک ایسی ذات ہے کہ جب اس کا تصور کریں تو دوسری کسی ذات کا خیال بھی دل میں نہ آسکے۔پس اَحَدٌ وہ صفت ہے جو سب خلق سے منزہ ہے اور در حقیقت اللہ تعالیٰ کی اصل شان شانِ احدیت ہے۔خدا تعالیٰ کا اپنی ذات میں یکتا ہونا دو قسم کی نفی کرتا ہے۔اول یہ کہ وہ دو سے ایک نہیں ہوا اور دوم یہ کہ وہ ایک سے بھی دو نہیں ہوا۔وہ نہ تو تنوع ذاتی اختیار کر سکتا ہے اور نہ اس تنوع کو مٹانے سے پھر ایک ہوتا ہے۔یعنی ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ ایک سے (۲) بیٹا اور (۳) روح القدس بن گیا اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ تینوں پچھلے پاؤں لوٹ کر پھر ایک ہو گئے ہیں۔اس طرح ہر مشر کا نہ خیال کا کلیۂ استیصال کر دیا گیا ہے۔اللهُ اَحَدٌ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اللہ ہے اور وہ اپنی ذات اور صفات میں ایک ہے۔اس دعوئی پر یہ عقلی اور واقعاتی دلیل دی کہ اللهُ الصَّمَدُ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں مگر باقی سب چیزیں اس کی محتاج ہیں اور جب ساری چیزیں اس کی محتاج ہیں اور وہی سب کی ضروریات پوری کرتا ہے تو پھر کسی اور اللہ کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر چیز جو ہمیں دنیا میں نظر آتی ہے تغیر پذیر ہے اور اپنی ہستی کے قیام کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے اور یہ احتیاج بتا رہی ہے کہ دنیا اور اس کی اشیاء اپنی ذات میں قائم نہیں بلکہ اپنی ہستی کے قیام کے لئے دوسروں کی محتاج ہیں۔پس کسی ایسی ہستی کا ماننا جوان محتاج ہستیوں کو معرض وجود میں لانے والی ہوا اور ایک ہمہ گیر قانون کے ماتحت ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو ضروری ہے۔پس اس کا رخانہ عالم کے قیام و بقاء کے لئے اللهُ الصَّمَدُ کی ضرورت ثابت ہوئی۔الصَّمَدُ کے معنی الدَّائِم اور اَلرَّفِيعُ کے بھی ہیں۔پس فرمایا کہ وہ ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔نہ اس سے پہلے کوئی وجود تھا اور نہ اس کے بعد کا ہم تصور کر سکتے ہیں۔وہی اول بھی اور آخر بھی اور وہ احدیت کی شان رکھنے والی پاک ذات رفیع الدرجات ہے اور غیر محدود بلندیوں کی