مضامین ناصر — Page ii
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَ عَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ پیش لفظ حضرت حافظ مرزا ناصراحمد خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نومبر ۱۹۶۵ء میں مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔آپ کا دور خلافت تاریخ احمدیت کا ایک درخشندہ ، تابناک اور مبارک دور ہے۔اس میں عظیم الشان فتوحات ہوئیں۔خدا تعالیٰ نے احمدیت کو ہمہ جہت غیر معمولی ترقیات اور رفعتیں عطا فرمائیں۔جماعت کی اس ترقی کا گراف حیرت انگیز طور پر بڑھا اور بڑھتا رہا۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپ کو قبل از خلافت بھی عظیم اور مقبول خدمات کی توفیق عطا فرمائی اور آپ بسطة في العلم و الجسم کے مصداق تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے کثیر و عمیق مطالعہ کے نتیجہ میں آپ کو علمی بصیرت اور دقائق و معارف پر قابل تعریف دسترس حاصل تھی اور ان روحانی خزائن سے آپ کو حصہ وافر نصیب تھا۔طالمود میں مذکور پیشگوئی کہ " مسیح کی وفات ہوگی پھر آپ کی بادشاہت آپ کے بیٹے اور پھر پوتے کو منتقل ہو گی بھی مشار الیہ ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام انا نبشرك بغلام نافلة لك میں بھی یہ خوشخبری دی گئی کہ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہوگا۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ ” مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا۔“