مضامین ناصر — Page 116
اخوت کی جڑیں ضرور کھوکھلی ہو جائیں گی۔(1) دورخی باتیں نہ کرو کہ یہ تمہاری بزدلی کا ایک بھیانک مظاہرہ ہوگا اور فتنے کے کئی دروازے اس سے کھلیں گے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگ بھی جو دور نے ہیں۔یعنی اس کے پاس جا کر ایک بات اور دوسرے کے پاس (اس کو خوش کرنے کے لئے ) دوسری بات کہنے والے قیامت کے دن خدا کے شریر ترین بندوں میں شمار ہوں گے۔(۷) خوشامدانہ باتیں نہ کرو کہ (۱) خوشامد مبالغہ اور افراط کی طرف لے جاتی ہے۔اور مبالغہ اور افراط جھوٹ ہی کی ایک قسم ہے۔(ب) خوشامد سے ظاہر و باطن ایک نہیں رہتا۔دل میں کچھ ہوتا ہے زبان پر کچھ اور۔(ج) خوشامد سے تم اپنے محدوح میں خوشامد پسندی اور اخلاقی گراوٹ پیدا کرنے کا موجب بنتے ہو۔(۸) لایعنی باتیں نہ کرو بے تعلق باتوں میں الجھ کر وقت کو ضائع اور نیکیوں کو برباد نہ کرو۔آنحضرت ﷺ نے فرما یالا یعنی باتوں کو چھوڑ نا مرد مومن کے اسلام کا ایک اچھا نمونہ ہے۔(۹) فضول باتوں سے پر ہیز کرو۔اتنی ہی بات کرو جتنی کی ضرورت ہے۔ایک بول سے مقصد حاصل ہوتا ہو تو دو بول نہ بولو۔ارشاد نبوی ہے کہ بڑا ہی مبارک ہے وہ جس نے قوت گویائی کی بہتات کو ( ذکر الہی کے لئے محفوظ رکھا ، مگر اپنے مال کی کثرت میں سے خدا کی راہ میں (بے دھڑک ) خرچ کیا۔(۱۰) گناہ کی باتیں نہ کرو کہ گناہ اور بدی کی باتوں، ایکٹریسوں کی خوبصوری کے افسانوں، شراب خوری کی مجالس کے قصوں اور فسق و فجور کی کہانیوں سے بدی سے نفرت کا فطری میلان کم ہو جاتا اور حجاب اٹھ جاتا ہے۔بدی کی باتیں بدی کی راہیں کھولتی ہیں۔(۱۱) خود رائی اور خود نمائی کے لئے دوسروں پر نکتہ چینی نہ کرو۔تعلمی و تنقیص کا خمیر صرف سڑاند ہی پیدا کرتا ہے۔دوسروں کے حقیقی نقائص بھی ہماری بڑائی کی دلیل نہیں بن سکتے۔(۱۲) جھگڑالو نہ بنو۔بات بات پر جھگڑا کرنا بھی کوئی بات ہے۔اونچی آواز سے بولنا غصہ سے باتیں کرنا اور لمبی لمبی تقریریں ناحق کو حق نہیں بنا سکتیں