مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 239

مضامین ناصر — Page 103

۱۰۳ احباب جماعت کو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی اس توفیق پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اُن سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہیں چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں وقف کر کے مرکز میں آئیں اور ان اداروں میں تعلیم حاصل کریں اور اس کے بعد سلسلہ کی خدمت میں لگ جائیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ وقف محض دینی ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ دونوں طرح کا ہوتا ہے، دینی بھی اور دنیوی بھی۔آپ کسی ترقی یافتہ قوم یا ملک کو دیکھ لیں ، اس میں آپ کو کثرت سے واقف زندگی ملیں گے۔چند ماہ ہوئے مشہور انگریزی رسالہ ریڈرز ڈائجسٹ میں ایک کتاب کا خلاصہ چھپا ہے۔اس میں ایک عورت کا ذکر کیا گیا ہے جو 1916ء میں بیمار ہوئی۔ڈاکٹروں نے اسے مشورہ دیا کہ اس کا شہری فضا میں رہنا اس کی صحت کے لئے مضر ہے۔اسے اپنی صحت کو بحال کرنے کے لئے ایسے علاقہ میں چلا جانا چاہیے جو میدانی بھی نہ ہو اور پہاڑی بھی نہ ہو۔بلکہ درمیانی قسم کا علاقہ ہو۔پھر وہ شہر سے دور ہو۔یہی ایک صورت ہے جس کی وجہ سے اس کی زندگی محفوظ رہ سکتی ہے اور اس کی صحت بحال ہوسکتی ہے۔چنانچہ اس نے ڈاکٹروں کی اس نصیحت پر عمل کرنے کے لئے اپنے خاوند کو بھی چھوڑا، اپنے دوسرے عزیزوں اور وطن کو خیر باد کہا اور قریب کے ایک علاقہ میں جس میں ڈاکٹروں کی بتائی ہوئی خوبیاں پائی جاتی تھیں چلی گئی۔یہ علاقہ تعلیمی لحاظ سے بہت پیچھے تھا۔۱۹۱۶ء میں اس علاقہ کے اردگرد پچاس میل میں صرف ایک شخص تھا جو دستخط کرنا جانتا تھا۔باقی لوگ دستخط بھی نہیں کر سکتے تھے اور وحشت کا یہ حال تھا کہ روزانہ سینکڑوں لوگ قتل ہوتے تھے۔وہ عورت بریکار بھی نہیں رہ سکتی تھی اس لئے اپنا وقت گزارنے کے لئے اس نے وہاں ایک سکول جاری کیا۔اس نے دوسرے علاقوں کے بعض لوگوں کو خطوط لکھ کر عطا یا اکٹھے کئے اور اس سکول کے اخراجات چلانے کا انتظام کیا۔اب تو وہاں اور سکول بھی جاری کئے گئے ہیں۔لیکن ۱۹۱۶ء میں پہلا سکول یہی تھا جو وہاں جاری کیا گیا۔اس عورت کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ ہر بچے سے جس کو وہ پڑھاتی تھی زبانی طور پر یہ وعدہ لیتی تھی کہ اگر اس کے ادارے، قوم یا علاقہ کو اس کی ضرورت پڑے تو وہ وہیں آئے گا کسی اور جگہ نہیں جائے گا۔چنانچہ لکھا ہے کہ ایک طالب علم طب میں نہایت ذہین اور ہوشیار تھا۔اسے طب میں اتنا ملکہ