مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 82 of 239

مضامین ناصر — Page 82

۸۲ ذریعہ سے دنیا کی اقتصادی بیماریاں دور ہوں گی اور ان میں سے بعض نظام بظاہر کا میاب بھی ہور ہے ہیں۔مثلاً نظام اشتراکیت بہت زور پکڑ رہا ہے۔روس جیسے وسیع ملک میں کامیاب ہورہا ہے اور دیگر مغربی اور مشرقی ممالک میں اس کی جڑیں مضبوط ہوتی نظر آرہی ہیں۔ان حالات کو دیکھ کر دل ڈرتے ہیں کہ خدا جانے ہماری کمزوریاں نظام نو کے جلد تر دنیا میں پھیل جانے کے راستہ میں روک نہ ہوں۔ایک عظیم الشان بشارت ہمارے دلوں کو تسلی دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے الہام کے ساتھ ہی ایک اور الہام کے ذریعہ ایک عظیم الشان بشارت جماعت احمدیہ کو دی اور وہ یہ کہ دبد به خسرویم شد بلند زلزله در گور نظامی فگند یعنی میری بادشاہت کا دبد بہ بلند ہوا۔نظامی کی قبر میں زلزلہ پڑا۔نظامی کون ہے اور اس کی قبر سے کیا مراد ہے۔ان سوالات کے جواب اس الہام کے سمجھنے کی کنجی ہیں۔میرے نزدیک نظامی سے مراد کارل مارکس ہے جو ایک نئے نظام یعنی اشتراکیت کا بانی ہونے کی وجہ سے نظامی یعنی نظام والا ٹھہرایا گیا ہے اور نظامی کی قبر سے مراد روسی اشتراکیت ہے۔حال ہی میں بیج نرائن نے مارکس کے نظریوں پر ایک کتاب قلمبند کی ہے۔جس میں اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ مارکس کے نظریے مرچکے ہیں۔کتاب کا نام ہی اس نے Marxism is dead یعنی مارکس کے اصول مُردہ ہو چکے ہیں رکھا ہے۔اگر مارکس کے نظریئے مر چکے ہیں تو ان کو کس نے مارا اور ان کی قبر کہاں ہے۔بیج نرائن نے اپنی کتاب کے ایک باب کا عنوان ہی یہ رکھا ہے۔روس مارکس کے نظریوں کی قبر کھودنے والے۔Russia the grave digger of Marxism‘۔اس کتاب کے پڑھنے والے پر کم از کم ایک بات اتنی واضح ہو جاتی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔اور وہ یہ کہ روس میں مارکس کے اصول جاری کرنے کی کوشش کی گئی۔مگر بعض وجوہ کی بنا پر جن کی تفصیل میں جانا اس وقت مشکل ہے۔روس کو مارکس کے اصول چھوڑ کر ایک دوسری قسم کی اشتراکیت کو جاری کرنا پڑا۔