مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 239

مضامین ناصر — Page 83

۸۳ جو اشتراکیت ایک طرف تو سرمایہ داری کے قریب سے قریب تر ہوتی چلی جارہی ہے اور دوسری طرف یہ ایک حقیقت ہے کہ روسی اشتراکیت ایک بہت بڑی طاقت بن رہی ہے۔جس کے متعلق یہ خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں وہ دنیا کے نظام میں ایک خطر ناک تہلکہ نہ مچادے۔۱۹۰۷ء میں جب دنیا کے سب اشترا کی مارکس کی غلامی کو فخر سمجھتے اور اس کے اصول کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اپنی جانوں، عزتوں اور مالوں کی قربانیاں دے رہے تھے اور دنیا میں ایک انقلاب کے آثار نمودار ہورہے تھے۔سرمایہ دار ممالک اس خوف سے تھرا رہے تھے کہ کہیں مارکس کی اشتراکیت ان ممالک کے نظام کو تہہ و بالا نہ کر دے۔اس وقت خدا کے رسول نے اپنی جماعت کو یہ خوشخبری دی کہ تمہیں خوف کا مقام نہیں۔یہ نئے نظام کا مدعی کبھی بھی کامیاب نہیں ہو گا۔کامیابی سے قبل ہی دنیا سے مٹ جائے گا اور اس نظامی کی قبر سے ایک نئی اشتراکیت پیدا ہوگی جسے ہم روسی اشتراکیت کہہ سکتے ہیں۔دنیا کو اگر خطرہ پیدا ہوگا تو نظامی یعنی مارکس سے نہیں بلکہ روسی اشتراکیت یعنی نظامی کی قبر سے خطرہ پیدا ہو گا مگر تم گھبرانا نہیں ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں کہ جب یہ نظامی کی قبر یعنی روسی اشتراکیت تمہارے مقابلہ میں آئے گی تو اس وقت اس قبر میں زلزلہ پیدا ہوگا اور وہ تباہ و برباد ہو جائے گی اور میری ہی بادشاہت کا دبدبہ بلند ہوگا۔نظام وصیت کا میاب ہو کر رہے گا۔اللہ اکبر اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ در اصل احمدیت کا آخری ٹکراؤ اشترا کی روس کے ساتھ مقدر ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ زار روس کا عصا میرے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔اشترا کی نظام میں یقیناً یہ خوبی ہے کہ وہ سرمایہ داری کی بھیانک تصویر کے خلاف ایک بھاری رد عمل ہے۔مگر پنڈولم کی حرکت کی طرح وہ دوسری انتہا کی طرف نکل گیا ہے۔اور شاید سرمایہ داری سے بھی زیادہ خطر ناک بننے والا ہے۔سے (روز نامه الفضل قادیان ۳/ جنوری ۱۹۴۶ء صفحه ۳ تا ۶) (روز نامه الفضل قادیان ۴ /جنوری ۱۹۴۶ء صفحه ۳ تا ۶)