مضامین ناصر — Page 70
چاہیے۔وہ کم سے کم کپڑا جس سے انسان سردی گرمی کے اثرات سے محفوظ رہ سکے اس کا حق ہے اور (۲) یہ کہ ہر شخص اس بات میں مساوی ہونا چاہیے کہ اسے جسمانی اور دماغی قولی کو کمال تک پہنچانے کے سامان مہیا ہوں۔اس کے راستہ میں کوئی ایسی دنیوی روک نہ ہو۔جس کی وجہ سے اگر وہ فطر تا پیشہ ور ہے تو اپنے پیشہ میں وہ کمال حاصل نہ کر سکے جو اسباب و ذرائع کے مہیا ہونے پر کر سکتا تھا۔اگر کسی کے دماغی قویٰ میں آگے نکلنے کی اہلیت ہے۔تو اسے وہ تمام ذرائع میسر آنے چاہئیں جن کے نتیجہ میں اس کی فطری طاقتیں ذات قوم اور بنی نوع انسان کے لئے مفید بن سکیں۔سب اشیاء اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں پس اسلام امراء کے اموال چھین کر ان کی جائیدادیں ضبط کر کے ہر انسان کو کمترین معیار زندگی پر ٹھہرا کر مساوات پیدا نہیں کرتا۔جس کے نتیجہ میں موجودہ زخم پر تو مرہم کا پھا یہ رکھا جاتا ہے۔مگر اس کے نتیجہ میں دوسری جگہ دوسرا پھوڑا پیدا کر دیا جاتا ہے۔اسلام کے اقتصادی اصول غرباء کی ضروریات کو تو پورا کرتے ہیں مگر امراء کو کنگال نہیں بناتے۔اسلام کے اقتصادی نظریہ کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دین اسلام کے نزدیک زمین و آسمان اور ان کی تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں۔جن میں شرعاً وقانو ناہر ایک کا ایک جیسا حصہ ہے۔ہر انسان اس بات میں آزاد ہے کہ وہ اپنے یا اپنوں کے زور بازو کے نتیجہ میں ان اشیاء میں سے جتنا حاصل کر سکتا ہو کر لے فرمايا: وَتَبَرَكَ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (الزخرف: ۸۶) فرمایا: خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقرة: ۳۰) نیز فرمایا: قُلِ اللهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيرٌ (ال عمران : ۲۷) یعنی زمین و آسمان کی بادشاہت اور اقتدار اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے اور اس کی طرف سے یہ سب