مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 69 of 239

مضامین ناصر — Page 69

۶۹ جتنی طبی امداد ایک شخص کو ملے۔اتنی ہی دوسرے کو ملے۔اس معنے میں مساوات ناممکن الحصول ہی نہیں غیر مفید اور مضر بھی ہے۔پیدائش انسانی مساوات کے اس اصول پر نہیں ہوئی۔کسی کا قد چھوٹا ہے کسی کا لمبا۔قدرت نے کسی کو دُبلا پے سے نوازا ہے کسی کو موٹاپے سے۔بعض کی حتوں میں تیزی پائی جاتی ہے بعض کے جذبات کند ہیں۔کسی کی دماغی قوتوں کو شاہین کی پرواز عطا کی گئی ہے کوئی زمین پر رینگتے ہوئے بھی پھولا نہیں سماتا۔ان حالات میں منطقی مساوات کو تاہ قد کے انسان کے کوٹ کو ٹخنوں تک لمبا کر کے یا طویل قامت شخص کے پاجامہ کو گھٹنوں تک اونچا کر کے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔خوراک میں یہ مساوات کم خور کو اتنا ٹھسا کر کہ غذا اس کے لئے مہلک بن جائے۔یا ایک پیٹو کو اتنی کم مقدار میں غذادے کر کہ زندہ رہنا ہی اس کے لئے مشکل ہو جائے ہم اسے حاصل کر سکتے ہیں۔خیالات کی دنیا میں اس مساوات کا قیام ایک بلند پرواز شاعر کو کند ذہن انسان کے ماحول میں رکھ کر یا ایک کند ذہن کو آسمانوں کی بلندی پر پہنچا کر جہاں کی شفاف فضا میں اس کیلئے زندہ رہنا مشکل ہو جائے قائم کی جاسکتی ہے۔پس ہر ایک کو ایک جتنا دینا کسی ایک ملک کے لئے بھی چنداں مفید نہیں۔اس لئے ہمیں مساوات کے کوئی اور معنی کرنے ہوں گے جس کے مطابق اس کے قیام کی کوشش کرنا ہمارا فرض ہوگا۔اسلام میں مساوات کی تعریف مارکس نے مساوات کی جو تعریف کی ہے۔وہ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں عقلاً نادرست تھی اور عملاً ناکام رہی۔اسلام اس قسم کی مساوات کو صحیح تسلیم نہیں کرتا۔اسلام کے نزدیک مساوات کی یہ تعریف ہے کہ (۱) ضروریات زندگی کے حصول میں سب مساوی ہوں۔یعنی وہ کم سے کم غذا جس سے انسان کے جسمانی اور دماغی قومی پورے طور پر نشو نما پاسکیں یا اپنی طاقتوں کو بحال رکھ سکیں ہر شخص کو مانی