مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 64 of 239

مضامین ناصر — Page 64

۶۴ ترکہ انفرادی حق ملکیت کو اگر تسلیم کر لیا جائے۔تو ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ انسان اپنی ماہانہ آمد سے جتنا بھی بچا سکے۔اسے اجازت ہو کہ وہ اس رقم سے جائیداد بنالے۔جس کے نتیجہ میں کچھ عرصہ کے بعد بعض لوگ بہت سے مکانوں وغیرہ کے مالک ہو جائیں گے اور بعض دوسروں سے اقتصادی لحاظ سے فوقیت حاصل کر لیں گے اور یہ مساوات کے ان معنی کے خلاف ہے جو مارکس اور اینجل کے دماغ میں ہیں۔اسی وجہ سے انہوں نے ورثہ کی اجازت بھی نہیں دی۔روس میں ابتداء میں اس کے مطابق عمل شروع کیا گیا۔مگر یہ اصول نبھ سکتا تھا نہ نبھا۔آہستہ آہستہ اسی انفرادی حق ملکیت کو جس کے مٹانے کے لئے حکومت مزدوراں قائم کی گئی تھی تسلیم کر لیا گیا۔اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔جب حکومت مزدوراں نے مزدوری میں اس قدر تفریق جائز رکھی کہ ایک مزدور کی اوسط تنخواہ ۲۵۰ روبل یعنی اندازاً اکتیس روپیہ مقرر کی اور حکومت کے بعض افسروں کو بیس ہزار سے تمہیں ہزار روبل ماہانہ دینے لگے۔یعنی اڑھائی ہزار سے پونے چار ہزار روپیہ۔تو یقیناً اس قدر کثیر معاوضہ لینے والے اپنی تمام آمد کو کھانے پینے اور پہنے پر خرچ نہیں کر سکتے۔اگر ایسے لوگوں کو ذاتی جائیداد بنانے کی اجازت نہ دی جائے تو اتنی کثیر رقم ماہانہ انہیں دینا ایک مذاق بن جاتا ہے اور وہ غرض پوری نہیں ہوسکتی جس کے لئے اس تفریق کو جاری کیا گیا۔پس ذاتی جائیداد بنانے کی اجازت دینی پڑی۔مگر اس اجازت کے نتیجہ میں اشتراکیت کا پروگرام کہاں گیا۔روسی حکومت اس قسم کی باتیں شائع کرنا پسند نہیں کرتی۔اس لئے صرف چند مثالیں ہی دی جاسکتی ہیں۔V۔P Kolyakov اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے۔رہنے کا مکان اور اس کی اشیاء گھر کے مویشی اور مرغیاں وغیرہ زمیندار کی ملکیت ہی رہتی ہیں“۔Andrew Smith اپنی کتاب کے صفحہ ۴۵ تا ۴۷ پر لکھتا ہے میں نے روس میں مسٹر N۔Vassiber اور اس کی بیوی کو بیس پچپیس فٹ کے ایک کمرہ میں رہتے دیکھا۔جس میں ان میاں بیوی کے علاوہ چار اور اشخاص بھی مقیم تھے۔یہ میاں بیوی عام مزدوروں میں سے تھے اور میں نے Gaypayoo فیکٹری کے ایک بڑے افسر کو ایک سات کمروں کے مکان میں رہتے بھی دیکھا۔جس میں ہر قسم کے تعیش کے سامان موجود تھے۔ان کا بچہ نہ تھا۔یہ دونوں اور ان کی دو نوکرانیاں اتنے بڑے مکان میں رہتی تھیں“۔