مضامین ناصر — Page 65
غالبا یہ افسر ایسے ہی لوگوں میں سے تھا۔جنہیں ہمیں تمہیں ہزار روبل ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک انسانی فطرت میں جذبات لطیفہ پائے جاتے ہیں اور جب تک ذاتی منفعت اس کی فطرت کا ایک حصہ ہے اس وقت تک انسان اس اصل پر کار بند نہیں ہوسکتا کہ ہر ایک سے اس کی قابلیت کے مطابق کام لیا جائے۔مگر ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق معاوضہ دیا جائے۔کام کا شوق پیدا کرنے اور اس پر ابھارنے کے لئے زیادہ کام پر زیادہ مخواہ ضرور دینی پڑے گی۔دماغی قابلیتوں کے نتیجہ میں جس شخص کے کام کا نتیجہ زیادہ ہو گا۔اسے معاوضہ بھی زیادہ ہی دینا پڑے گا۔ورنہ دماغی قابلیتیں ترقی کی بجائے تنزل کی طرف گریں گی۔جن کی آمد زیادہ ہوگی وہ روز مرہ کی ضروریات پر کھلا خرچ کرنے کے بعد بھی ضرور بچائیں گے۔اگر حکومت سود کی اجازت دیتی ہوگی تو یہ لوگ اس روپیہ کوسو د پر لگا دیں گے اور اس طرح ان کے روپیہ میں روز افزوں زیادتی ہوتی چلی جائے گی۔یا اگر انفرادی حق ملکیت کو حکومت تسلیم کرے گی۔تو یہ اس سے جائیداد پیدا کریں گے۔اگر حکومت ان ہر دو کی اجازت نہیں دے گی۔تو اپنی قابلیتوں کے جو ہر دکھا کر دوسروں سے کچھ زیادہ کمانے کی تمنا بھی ان کے دلوں میں پیدا نہ ہوگی۔اگر سود اور انفرادی ملکیت کو حکومت تسلیم کر رہی ہو۔مگر حق ورثہ کو جائز نہ قرار دیتی ہو تو ایسے لوگ یہ حسرت لے کے مریں گے کہ کاش ہم اپنی محنت کی کمائی سے اپنی اولاد کو فائدہ پہنچاتے۔ایسا ہونا لازمی ہے سوائے اس کے کہ حکومت مزدوراں انسان کو مشین بنانے میں کامیاب ہو جائے۔اشتراکیت کے اصول کی ناکامی مذکورہ بالا سات اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر اشتراکیت انسان، انسان کی اقتصادی تفریق کو مٹانا اور اقتصادی مساوات کو قائم کرنا چاہتی ہے۔میں نے نہایت اختصار کے ساتھ ان اصول کی خامیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر روسی حکومت ہی نے جو مارکس کی اشتراکیت کہلاتی ہے۔ان اصول پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے تو مارکس کے نظریے مرچکے ہیں۔اور دنیا میں