مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 43 of 239

مضامین ناصر — Page 43

۴۳ دل سے ہے اور دل پر دنیا کی کوئی طاقت جبر نہیں کر سکتی۔پس جہاں تک دل کا تعلق ہے ایمان کے بارہ میں جبر ہو ہی نہیں سکتا۔جو چیز ممکن ہی نہیں اس کی کرنے کی کوشش ہی کیوں کرنا۔پس اکراہ فی الدین تین وجوہ سے نا جائز ہے۔حق و باطل میں فرق عیاں ہے، جبر کی ضرورت ہی نہیں۔جبر کی کوشش کرنا خدا تعالیٰ کی ذات پر بہت بڑا الزام لگانا ہے کہ نعوذ باللہ انسانی فطرت کو مذہبی آزادی دینے میں اس نے ایک غلطی کا ارتکاب کیا۔جبر زیبا ہی نہیں۔ایمان کا تعلق دل سے ہے، دل پر جبر ہو نہیں سکتا۔جبر در اصل ممکن ہی نہیں۔پس اس میں ذرہ بھی شک نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام نے پوری مذہبی آزادی ہر قوم اور ہر فرد کا حق تسلیم کیا ہے اور دین میں جبر کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اسے اس قدرنا پسند کیا ہے کہ اگر کوئی قوم دوسری قوم سے ان کے اس حق کو چھیننا چاہے تو اس ظالم قوم کے خلاف خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم جنگ کو جائز بلکہ ضروری قرار دیا ہے جیسا کہ آگے جا کر قرآنی آیات سے ثابت کیا جائے گا۔انشاءاللہ جہاد کبیر کی فضیلت جہاد کبیر کی فضیلت اس ایک بات سے عیاں ہے کہ ”مجاہدہ نفس اور تبلیغ “ جب مل گئے تو امت محمدیہ کو خیر الام بنادیا۔فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِہ (ال عمران : 11) کہ تم تمام امتوں سے افضل ہو اس لئے کہ جب تم تزکیہ نفس کر چکتے ہو اور مجاہدہ نفس کی منازل ایک حد تک طے کر چکتے ہو تو تم دوسروں کے نفوس کے تزکیہ کی فکر میں لگ جاتے ہو اور انہیں نیک اعمال کے کرنے پر ابھارتے ہو اور بُرے کاموں سے روکتے ہو۔پس تم خیر الام ہوئے اور تمہاری جزاء بھی خیر الجزاء ہے گو مجاہدۂ نفس کے بعد ہے مگر کتنا اہم فریضہ ہے تبلیغ و تربیت، جس نے امت محمدیہ کو خیر الام بنادیا۔حدیث میں ہے عَنِ النَّبِي الا الله أَنَّهُ سُئِلَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ قَالَ امِرُهُمُ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاتْقَاهُمْ لِلَّهِ وَ اَوْصَلُهُمْ که آنحضرت علیہ خطبہ پڑھ رہے تھے تو آپ