مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 239

مضامین ناصر — Page 42

۴۲ دوم۔خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت کو مذہبی آزادی بخشی ہے۔ہمارا کسی مذہب کی پیروی کرنا یا نہ کرنا خود ہمارے اختیار میں ہے اور یہ مذہبی آزادی ہی ہے جس نے انسان کو فرشتہ سے بھی کہیں بڑھ کر بنا دیا ہے۔پس جب خود خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کو مذہبی آزادی بخشی تو ہم کون ہوتے ہیں جو اس سے اس آزادی کو چھینیں اور اس طرح خدا تعالیٰ پر یہ الزام لگائیں کہ گویا اس نے انسانی فطرت کو آزاد بنانے میں ایک غلطی کا ارتکاب کیا تھا اور ہم اس سے اس آزادی کو چھین کر اس غلطی کا ازالہ کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے سرزد ہوئی۔(عِيَاذًا بِاللهِ) فرمایا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا (یونس: ۱۰۰ ) اگر خدا تعالیٰ یہ چاہتا کہ ہر زمانہ اور مکان کے لوگ اُس کی باتوں پر ایمان لے آتے اور اس کی بھیجی ہوئی تعلیم پر عمل کرتے تو یقیناً ہر انسان ایسا ہی کرتا اور دین کے بارہ میں ان میں کوئی اختلاف نہ ہوتا۔مگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے یہی تقاضا کیا کہ وہ انسان کی فطرت کو اس بارہ میں آزاد بنائے۔اب جب خدا تعالیٰ کی مشیت ہی یہی تھی کہ انسانی فطرت آزاد ہو تو پھر اگر ہم اس مشیت الہی کے خلاف کسی انسان کو کسی مذہب کے ماننے پر مجبور کریں تو ہم خدا تعالیٰ پر ایک الزام لگا کر ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کریں گے۔پس دین کے معاملہ میں جبر سخت نا پسندیدہ ہے۔سوم۔کسی تعلیم پر ایمان لانے کے معنی ہیں دل سے یہ اقرار کرنا کہ یہ تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر اس اقرار کے مطابق اپنے اعمال کو ڈھالنا۔صرف منہ سے اقرار کرنے کا نام ایمان نہیں۔پس اكراه فی الدین اس لئے بھی جائز نہیں کہ حقیقی ایمان جبر سے پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔جبر سے ہم زبانوں کو منوا سکتے ہیں جبر سے دل نہیں مانا کرتے۔فرمایا فَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (یونس:۱۰۰) بیشک تو اتنا جبر تو کر سکتا ہے کہ لوگوں کی زبانیں ایمان لے آئیں مگر کیا تیرے لئے یہ ممکن ہے کہ تو جبر کو اس حد تک پہنچا دے کہ لوگ حقیقی رنگ میں ایمان لے آئیں اور ایمان ان کے دل کہ گہرائیوں میں اتر جائے۔اگر جبر کے بعد بھی وہ دل سے ایمان نہ لائے تو وہ ایمان لائے ہی نہیں اور اگر وہ جبر کے بعد بھی مومن نہ بنیں تو پھر جبر کا فائدہ ہی کیا۔ایمان کا تعلق