مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 41 of 239

مضامین ناصر — Page 41

کی دعوت دی جائے۔ام لیکن اگر دشمن نہ گھائل کر دینے والے نمونہ کو دیکھے، نہ قائل کر دینے والے دلائل کو سنے اور نہ نرمی سے کچھ فائدہ اٹھائے بلکہ نرمی سے اور بھی تیز ہو تو یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان یہ سمجھتے ہوئے کہ تعلیم بہت اعلیٰ ہے اور مخالفین کا اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے کہیں اسلامی تعلیم کی اشاعت جبر وتشدد سے نہ کرنے لگ جائیں، اسلام کو خطرہ سے محفوظ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم دی ہے کہ لَا إِكْرَاهَ في الدين (البقرۃ: ۲۵۷) یعنی اگر دشمن تمہارے نمونہ کو نہیں دیکھتا نہ دیکھے۔تمہارے واضح اور بین دلائل کو نہیں سنتا نہ سنے اور نرمی کے مقابلہ میں سختی کرتا اور گالی گلوچ پر اتر آتا ہے اُسے ایسا کرنے دو۔مگر دیکھنا تم دین کے معاملہ میں جبر کبھی روا نہ رکھنا۔یہ کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔دین میں جبر کی ممانعت کیوں کی ؟ قرآن کریم کا یہ خاصہ ہے کہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کے موافق دلائل بھی ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے جب دین میں جبر کی ممانعت کی تو ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ایسا کیوں نہیں کرنا چاہیے۔میں اس وقت اکراہ کے خلاف قرآن کریم کے بتائے ہوئے تین دلائل پیش کرتا ہوں۔اول۔جبر فی الدین ممنوع ہے۔اس لئے کہ جبر کی ضرورت نہیں۔قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقرۃ: ۲۵۷) اسلامی تعلیم کے آنے کے بعد حق و باطل، راستی و گمراہی میں فرق اس قدر نمایاں ہو گیا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ صبر اور استقلال کے ساتھ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر تم تبلیغ کرو اور تمہارے دشمنوں پر اسلامی تعلیم کا اثر نہ ہو۔اب تک نیک نتائج کا نہ پیدا ہونا یہ بتا تا ہے کہ یا تو تم نے صحیح طریق پر تبلیغ نہیں کی اور یا پھر صبر اور استقلال سے تبلیغ نہیں کی ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حق و باطل میں اتنا نمایاں فرق ہو اور اسے صحیح رنگ اور صحیح طریق پر مخالفین کے سامنے پیش کیا جائے اور پھر بھی وہ نہ مانیں۔إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ