مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 18 of 239

مضامین ناصر — Page 18

۱۸ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر وحی فرمائی کہ میں تجھے رحمت کا نشان دیتا ہوں۔( تذکرہ صفحہ ۹، ۱۰) یعنی آپ آیت اللہ ہیں اور آپ سے استہزا آیت اللہ سے استہزا ہے اور اللہ تعالیٰ سے استہزا اس طرح کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَظْهَرُ الْحَقِّ وَ الْعَلَاءِ كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ( تذکرہ صفحہ ۱۴۱) ایسی ذات کے ساتھ اگر استہزا خود خدا تعالیٰ سے استہز انہیں تو اور کیا ہے؟ آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کے عذر ( جو عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق ہوں) کیوں کرتے ہو۔اللہ خوب جانتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد یا اس کے اظہار کے بعد تم پھر کفر کے گڑھے میں گر چکے ہو۔ساتویں علامت ساتویں بات منافق کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے۔وَيَحْلِفُونَ بِاللهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَمَا هُمْ مِنْكُمْ وَلَكِنَّهُمْ قَوْمُ يَفْرَقُونَ (التوبة: ۵۶ ) باوجود اس کے کہ منافقین ہمیشہ منافقت کی باتوں اور منافقت کے اعمال سے الہی سلسلہ کے نقصان کے درپے رہتے ہیں۔جب ان پر نفاق کا شبہ ہو اور لوگ ان کی حرکات کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں اور صاحب فراست مومن ان میں نفاق کی بُو پائیں۔تو وہ اس خوف سے کہ کہیں پردہ فاش نہ ہو جائے قسمیں کھا کھا کر بیان کرتے ہیں کہ ہم تو مومن ہیں۔ہم مخلص احمدی ہیں سلسلہ کے کاموں میں آگے آگے رہنے والے ہیں اور خدا گواہ ہے کہ ہم اے مومنو! تم ہی میں سے ہیں۔کیونکہ بزدلی اور خوف اور گیدڑ پن“ منافقین کی روح کا ایک جزو بن چکا ہوتا ہے اور باوجود اس کے کہ یہ لوگ سلسلہ کی حقانیت کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان میں یہ جرات نہیں ہوتی کہ کھلے بندوں مخالفین کے گروہ میں جاشامل ہوں۔اس وقت تک کہ خود خدائی ہاتھ ان کو اپنی جماعت سے اس طرح پکڑ کر علیحدہ کر دے جس طرح ایک مکھی دودھ میں سے نکال کر باہر پھینک دی جاتی ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَحْذَرُ الْمُنْفِقُونَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّتُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ (التوبة (٢٤)