مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 19 of 239

مضامین ناصر — Page 19

۱۹ یعنی منافقین کو صرف خوف ہی نہیں ہوتا بلکہ خوف کے ساتھ ایک پہلو استہزا کا بھی ہوتا ہے تا اپنے خوف پر ایک حد تک پردہ ڈال سکیں۔یہ حالت خاص منافق کے ساتھ لازم ہے اور یہ ایک ہی علامت منافق اور مومن میں فرق کرنے کے لئے کافی ہے۔ہمارے وقت کے منافقین میں بھی یہی بات ملتی ہے۔وہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم لوگ احمدیت میں شامل ہیں اور نفاق کی لعنت ابھی تک ہم پر نہیں پڑی جیسے کہ منشی فخر الدین نے لکھا۔” کیا پرانا خادم ہونے کی حیثیت سے حضرت صاحب کا فرض نہ تھا کہ مجھے بلا کر مربیانہ طور پر سمجھا دیتے“ (الفضل ۱۸ جولائی) فرضگو یا سب حضرت صاحب پر عائد ہوتے تھے خودان لوگوں پر کوئی فرض نہ تھا۔نہ انسانیت کا نہ شرافت کا نہ احمدیت کا۔پھر فخر الدین صاحب نے اپنے خط میں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو لکھا۔اب اگر حضور سنت نبوی کے ماتحت لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر اس سیاہ کار کو بخش کر اپنی چھاتی سے لگالیں تو بھی اور اگر میری اصلاح کے لئے مزید کسی سرزنش اور زجر و توبیخ کی ضرورت سمجھیں۔تو بھی میرا ہر حالت میں شلح قلب اور شرح صدر ہے اور میرے 66 لئے دونوں مساوی اور موجب رحمت وسعادت ہیں۔وَاللهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ “۔(الفضل ۲۶ جون) کس طرح قسمیں کھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم لوگ تو مومن ہیں اور یہ ایسے وقت جبکہ نفاق اپنی انتہاء کو پہنچ چکا تھا اور خود ان کے دل یہ خوف محسوس کر رہے تھے کہ کہیں ہمارا پردہ فاش نہ ہو جائے اور اسی کی وجہ سے منشی فخر الدین نے اپنی بعض گفتگو میں استہزا کا رنگ اختیار کیا اور وہ گندمنہ سے نکالا جس کو نقل کے طور پر زبان پر لانا بھی ایک شریف آدمی گوارا نہ کرے گا۔إِلَّا مَا شَآءَ اللہ۔ہمارے لئے تو یہ استہزاء اور یہ گند جو ان لوگوں کے خوف پر دلالت کر رہا تھا ایمان کو بڑھانے والا ہی ہے کہ کس طرح تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں منافقین کا نقشہ کھینچا ہے اور پھر وہ کس طرح ہر پہلو سے منافقین سلسلہ پر صادق آتا ہے۔سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَلِيمِ الْخَبِيْرِ