مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 219 of 239

مضامین ناصر — Page 219

۲۱۹ کونہ کونہ اور چپہ چپہ سے خدا تعالیٰ کا ذکر بلند ہو رہا ہوگا ، اس کے انعام کی عظمت ظاہر ہو رہی ہوگی۔سو آنحضرت علی کے ذریعہ اس نئی زمین اور نئے آسمان کا وعدہ مسلمان کو دیا گیا۔بنی اسرائیل کو تو ایک چھوٹی سی زمین فتح کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔وہ کام اس اتنے بڑے اور عظیم الشان کام کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا کہ مسلمانوں نے دنیا کے ہر ملک کو فتح کرنا ہے اور کرنا بھی ہے اپنے رب کے لئے۔یہاں ایک چھوٹی سی جگہ کو فتح کرنے کا سوال نہیں ہے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو حکم دیا گیا تھا یہاں تو ساری دنیا کو فتح کرنے کا حکم ہے۔قوم موسیٰ کے بالمقابل کتنا بڑا کام ہے اور کتنی بڑی ذمہ داری ہے جو امت مسلمہ کے کندھوں پر ڈالی گئی یہ اسی عظیم الشان کام اور عظیم الشان ذمہ داری کا رد عمل تھا کہ جب بدر کے میدان میں آنحضرت علی نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ دنیا کی نگا ہیں اس وقت اس بات پر ہیں کہ تم تعداد میں تھوڑے ہو، کمزور ہو، نہتے ہو، تمہاری تلوار میں ٹوٹی ہوئی ہیں، تمہارے نیزے گند ہیں، تمہارے پاس سواریاں نہیں ہیں صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے ہی تو ہیں۔پھر تمہیں غذا بھی پوری میسر نہیں۔تمہارے مقابلہ پر کفار مکہ کا لشکر جرار کھڑا ہے جو تعداد میں تم سے تین گنا زیادہ ہے اور سواریوں کے لحاظ سے دس گنا زیادہ ہے کیونکہ ستر کے مقابلہ میں سات سو اونٹ ان کے پاس ہیں اور ستر گھوڑے ان کے علاوہ ہیں۔پھر جن کے نیزوں کی انیاں تیز اور چمکدار اور دل میں خوف پیدا کرنے والی ہیں، جن کی تلواریں بہترین لوہے کی بنی ہوئی ہیں اور وہ ہاتھ جوان تلواروں پر ہیں وہ عرب کے مانے ہوئے سرداروں کے ہاتھ ہیں۔دنیا کی نگاہیں ظاہری سامانوں کے اس باہمی تقابل کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھ رہی ہیں کہ اپنے ایمان اور اخلاص کی بنا پر خدا تعالیٰ کے ان وعدوں پر جو اس نے تم سے کئے ہیں تمہاری نظر ہے یا نہیں؟ تو صحابہؓ کا جواب یہ تھا کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ پر ایمان لائے ، آپ کی حقانیت ہمارے دلوں میں جاگزیں ہے۔یہ فوج کیا چیز ہے۔دنیا کی ظاہر بین نگاہ میں تو یہ امکان بھی آسکتا ہے کہ شاید ہاریں یا جیت جائیں یا اگر جیتنا ممکن نہ ہو تو شکست اتنی فاش نہ ہو کہ ہم کلی طور پر تباہ ہو جائیں ہمارے دلوں کی کیفیت تو یہ ہے کہ آپ اگر حکم دیں تو ہم اپنے گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں جو قطعی اور یقینی موت ہے۔ہم اس کی بھی پرواہ نہیں کرتے کہ آپ کے ایک اشارے پر اس طرح موت کے منہ میں چلے جائیں۔