مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 239

مضامین ناصر — Page 218

۲۱۸ اطاعت، فرمانبرداری اور فدائیت کا اعلیٰ ترین نمونہ اس کے بالمقابل ایک دوسری انتہا یعنی تسلیم ورضا، اطاعت وفرمانبرداری اور محبت و فدائیت کی بہترین اور اعلی ترین مثال جو تاریخ عالم میں ہمیں نظر آتی ہے وہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کی مثال ہے۔آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر یہ اعلان فرمایا کہ میں تمام جہان کے لئے یعنی دنیا کے ہر ملک اور ہر قوم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا یعنی ایک چھوٹا سا چند ہزار مربع میل کا رقبہ نہیں بلکہ دنیا کا ہر ملک اور ہر وہ جگہ جہاں دنیا کی کوئی نہ کوئی قوم رہتی ہے براعظم بھی اور چھوٹے چھوٹے جزائر بھی سب کو میرے لئے مسجد بنایا گیا ہے۔خشکی اور تری غرض دنیا کے چپہ چپہ کی تقدیس ہمارا کام ہے۔ہر جگہ اور ہر مقام پر خدا تعالیٰ کا نام بلند کر کے ہم نے وہاں اپنی پیشانیوں کو رگڑنا ہے اور جب زمین ہماری سجدہ گاہ بنے گی تو وہ پاک ہو جائے گی۔تب ایک نیا آسمان ہوگا اور نئی زمین ہوگی۔نئی زمین ان معنی میں کہ اس وقت ساری زمین پر خدائے واحد کا نام لیا جائے گا اور نیا آسمان ان معنی میں کہ آسمانوں کے وہ دروازے جو پچھلی قوموں نے اپنے پر بند کر لئے تھے ان کے قفل کھول دیئے جائیں گے۔اس اعلان کے ذریعہ سے آپ نے صحابہ کو باور کرایا کہ ان دروازوں میں سے جس دروازہ پر بھی تم دستک دو گے وہ دروازہ تمہارے لئے کھولا جائے گا جب تم دعا کے لئے ہاتھ اٹھاؤ گے تو گویا دعا کے دروازے پر تمہاری دستک ہوگی سو وہ دروازہ آسمان کا کھل جائے گا اور تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔اسی طرح معجزات، نشانات اور تائیدات آسمانی کے دروازے کھولے جائیں گے اور آسمان سے فرشتے نازل ہو کر تمہاری مدد اور نصرت کریں گے۔الغرض آسمان کے وہ سارے دروازے جو قبولیت دعا کے ہیں، جور و یا وکشوف کے ہیں، جو معجزات اور نشانات کے ہیں۔جو پیشگوئیوں اور بشارتوں کے ہیں، جو فرشتوں کے نازل ہونے اور دلوں میں تسکین پیدا کرنے کے ہیں، جو دشمنوں کے دلوں پر خوف طاری کرنے کے ہیں ان میں سے آسمان کا ہر دروازہ جو پہلے مقفل تھا وہ کھول دیا جائے گا۔ان دروازوں کے کھل جانے سے گویا ایک نیا آسمان معرض وجود میں آجائے گا۔اسی طرح پر زمین بھی ایک نئی زمین ہوگی کیونکہ اس کے۔