مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 16 of 239

مضامین ناصر — Page 16

۱۶ پہنچائی جاتی ہیں اور وہ ان کو صحیح تسلیم کر لیتا ہے اور ہم بے چاروں سے خواہ مخواہ ناراض ہو جاتا ہے وَغَيْرُ ذَالِكَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہمارا نبی یا اس کا خلیفہ بے شک ہے تو کان۔مگر ان معنوں کی رُو سے نہیں جو تم لے رہے ہو۔بلکہ وہ خیر و بھلائی کا کان ہے۔اسے کسی سی آئی ڈی کی بھلا کیا ضرورت ہے۔مومنین خود اس تک تمام اہم خبریں پہنچاتے ہیں اور اسے اپنا قومی فرض جانتے ہیں اور بیشک یہ ان کی خبروں کو صحیح سمجھتا ہے۔اگر ان کی باتوں کو نہ مانے تو کیا تمہارے جیسے منافقین کی باتوں کو صحیح سمجھا کرے اور اس کا کان ہونا جماعت کے لئے تو مفید اور بابرکت ہے البتہ تمہارے جیسے منافقین کے لئے اس کا یہ فعل بے شک عَذَابِ اَلِیم بن جاتا ہے۔اب اس میں تعجب کی کیا بات۔اگر بعینہ یہی اعتراض منشی فخر الدین بھی حضرت امیر المومنین ایده اللہ تعالیٰ پر کریں۔اپنے بیان میں جو ۱۸ار جولائی ۱۹۳۷ء کے ”الفضل میں چھپ چکا ہے۔انہوں نے لکھا ہے۔” جبکہ اسی خیال کے ماتحت خفیہ آدمی کئی ایک میرے ارد گرد چھوڑ رکھے تھے۔تھے۔اور اگر ملیں تو یہ چند شکایات جو میں نے ان سی۔آئی۔ڈی کو حضرت صاحب تک اپنی آواز پہنچانے کا ذریعہ سمجھ کر بیان کی ہیں۔“ چھٹی علامت چھٹی علامت ایک منافق کی یہ بتائی کہ وَلَبِنُنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ (التوبة: ۶۵) کہ اگر ان منافقین سے ان کی منافقانہ باتوں کے متعلق دریافت کیا جائے۔تو جواب میں اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے کہتے ہیں۔یہ تو معمولی بات تھی۔ہنسی مذاق میں ہمیشہ ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس عذر سے تمہارا گناہ کم نہیں ہو جاتا۔بلکہ اور بھی خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے کہ تم ہمیشہ سے ہی خدا تعالیٰ ، اُس کی آیات اور اُس کے رسول سے استہزاء کرتے چلے آئے ہو۔اوّل اللہ تعالیٰ اُس کی آیات اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرنا اور پھر کس دلیری سے یہ کہنا کہ ہمیشہ اس قسم کے مذاق کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔بد بختو ! کیا