مضامین ناصر — Page 208
۲۰۸ پھیلانا یا اس ضمن میں کسی شخص کا نام لینا خواہ وہ شخص پسندیدہ ہو یا غیر پسندیدہ اسلامی تعلیم کے حددرجہ خلاف اور انتہائی بے شرمی اور بے حیائی کی بات ہے اور پاک باز مومن اس قسم کی منافقانہ اور خبیثانہ باتوں سے ہمیشہ پر ہیز کرتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس قسم کا وہم اور خیال بھی ان کے ذہن میں نہیں آتا اور اگر کسی منافق طبع کو وہ اس قسم کی بات کرتے سنتے ہیں تو سختی سے ایسے شخص کی باز پرس کرتے ہیں۔یہاں میں یہ ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہمارے امام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک نہایت ہی شفیق باپ ہیں اور اپنی اولاد پر آپ کے بہت ہی احسان ہیں جن کا شمار بھی ہمارے لئے ممکن نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑا احسان جو آپ نے اپنی اولاد پر کیا وہ دعائیں ہیں جو آپ نے اپنی اولاد کے لئے کیں اور جماعت سے کروائیں۔پھر ان دعاؤں میں سے بھی بڑی ہی پیاری وہ دعا ہے جو میں درج ذیل کرتا ہوں۔حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں۔منافقین کہتے ہیں کہ میں اپنی اولاد میں سے کسی کو خلیفہ بنانا چاہتا ہوں حالانکہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔اگر میری اولاد میں سے کوئی ایسا خیال بھی دل میں لائے گا تو وہ خدا کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا۔پس میں تو کہتا ہوں کہ یہ بھی دعا کرو کہ میری اولاد کے دل میں بھی کوئی ایسا وسوسہ نہ ہو اور خدا ان کے دلوں کو بھی پاک رکھے کیونکہ جو خدا کا مال لینا چاہتا ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو یقینا سزا پائے گا“۔(الفضل یکم نومبر ۱۹۵۶ء) خدا شاہد ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور جماعت کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہمارے دلوں کو اس قسم کے منافقانہ اور خبیثا نہ وسوسوں سے پاک رکھا ہے اور دعا ہے کہ وہ قادر وتوا نا خدا ہمیشہ ہی ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرما تا رہے اور ہمارے دل اور دماغ کے دروازے شیطان اور اس کے چیلوں کے لئے کبھی نہ کھلیں اور پھر یہ دعا ہے کہ اے ہمارے رب ! اے ہمارے شافی خدا! ہم اپنے باپ اور اپنے امام کے ان احسانوں کا بدلہ دینے کی طاقت نہیں رکھتے کہ ہم کمزور ہیں۔مگر تو تو بڑی طاقتوں والا ہے تو ہی اپنے فضل سے بہترین اور احسن جزا دے اور خود اپنے ہی دست شفا سے آپ کو صحت کاملہ عاجلہ عطا فرما اور اس پاک و مطہر وجود، اس محبت کرنے