مضامین ناصر — Page 203
۲۰۳ مالک۔اس کی بلندیوں تک، اس کی رفعتوں تک انسان کی پرواز تخیل بھی نہیں پہنچ سکتی اور جب ہم نے حصول قرب کے لئے اس رفیع الدرجات خدا کی طرف پرواز کرنی ہے تو پھر جس قدر بھی پرواز کریں کم ہے کیونکہ ہمارا اللہ غیر محدود رفعتوں کا مالک ہے اور ہم پر قرب کی غیر محدودرا ہیں کھلی ہیں اور غیر محدود روحانی ترقیات کے دروازے ہم پر کھولے گئے ہیں ہمارا روحانی سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔یہ بھی یادر ہے کہ تو حید رحمانیت کا منبع ہے اور صمدیت کے اندر رحمانیت مضمر ہے۔ہر چیز اپنی ربوبیت کے لئے اسی کی محتاج ہے اس کے لئے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔انسان اور غیر انسان سب ہی اپنے وجود اور اپنی بقاء کے لئے اسی کی رحمانی ربوبیت کے محتاج ہیں اور جب انسانوں میں سے نیک و بد سب کا وہ رب ہے اور وہ رب اور رحمان ہے پر ہیز گاروں کا بھی اور گناہگاروں کا بھی تو ہمیں کسی کفارہ کی ضرورت نہیں اور نہ کسی تناسخ کی ہمیں احتیاج ہے۔ہم نے بتایا ہے کہ اگر تو حید نہ ہو تو رمانیت پیدا نہیں ہوسکتی۔چنانچہ اس کی ایک موٹی مثال یہ ہے کہ جو قو میں توحید کی قائل نہیں وہ رحمانیت کی بھی قائل نہیں۔مثلاً ہند و تو حید کو نہیں مانتے لہذا وہ رحمانیت کے بھی قائل نہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ انسان کو اس کے گناہوں کی سزا ضرور ملے گی۔گناہ کی معافی کے لئے وہ اللہ تعالیٰ کا محتاج نہیں، مسئلہ تناسخ کا محتاج ہے۔اسی طرح عیسائی تو حید کے قائل نہیں اور گناہوں کی معافی کے لئے کفارہ کو ضروری خیال کرتے ہیں۔مگر اسلام کہتا ہے کہ اللهُ الصَّمَدُ اس کا فیض جاری ہے اور ہر چیز اس کی رحمانیت سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور اس کی محتاج ہے پس تو حید و رحمانیت لازم و ملزوم ہیں اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو نہ کسی کفارہ کی ضرورت ہے اور نہ تناسخ کی۔خدائے احد، صمد اور رحمان ہی ان کے لئے کافی ہے۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ الصَّمَدُ کے لئے بطور دلیل ہے اور بتایا کہ احتیاج دو باتوں کے سبب پیدا ہوتی ہے۔اول ابتدائی تعلقات کی وجہ سے اور دوم آئندہ کے تعلقات کی وجہ سے (۱) ابتدائی تعلقات سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کے نیست سے ہست میں آنے کا کوئی سبب ہو، ایسی ہستی محتاج ہوتی ہے۔اپنے سبب کی کیونکہ اگر وہ سبب نہ ہوتا تو اس کا وجود ظاہر نہ ہوسکتا اور (۲) آئندہ کے تعلقات