مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 239

مضامین ناصر — Page 164

۱۶۴ آنحضرت ﷺ نوع انسان میں سے اکمل ترین انسان تھے۔سب اولین و آخرین پر آپ کو فضیلت دی گئی تھی۔آپ جیسا مقدس و مطہر اور بدرجہ اتم صفات جلال و جمال کا مظہر نہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی ہو گا۔آپ اکمل ترین شریعت لائے۔اس شریعت پر عمل کر کے انسان روحانی علو وارتفاع کے اعتبار سے ایسا انسان بن جاتا ہے کہ آپ کی آمد سے پہلے کوئی انسان کسی شریعت پر عمل کر کے ایسا انسان نہیں بنا۔پھر آپ کی لائی ہوئی شریعت ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والی ہے۔آپ کا مرتبہ اس قدر بلند و بالا اور ارفع و اعلیٰ تھا اور خلق عظیم کے انتہائی بلند مقام پر فائز ہونے کے باعث آپ کے وجود باجود میں ایک ایسی جاذبیت اور کشش ودیعت کی گئی تھی کہ جن خوش نصیب لوگوں کو آپ کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا وہ آپ پر پروانہ وار اپنی جانیں فدا کرنے کو ایک سعادت عظمی سمجھنے لگے۔جب آپ اپنا مشن حیرت انگیز طور پر پورا کرنے کے بعد اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے تو آپ کے اصحاب پر قیامت ٹوٹ گئی اور انہیں یوں محسوس ہوا کہ یہ دنیا اندھیر ہوگئی ہے۔وہ دل میں سوچتے تھے کہ اب ہمارے زندہ رہنے سے کیا فائدہ۔جب حضور ہی جن کے دم سے ہماری زندگی تھی فوت ہو گئے تو پھر ہم کیوں زندہ ہیں۔موت ہمیں بھی اپنی آغوش میں کیوں نہیں لے لیتی۔اس وقت عرب کا ایک حصہ مرتد ہو گیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ فوت نہیں ہو سکتے وہ حیران تھے کہ یہ ہو کیا گیا ہے۔ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا اور انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔دوسری طرف حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کا یہ حال تھا کہ آپ تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا جو شخص کہے گا کہ آنحضرت معہ فوت ہو گئے ہیں اس کا سر اڑا دوں گا۔جب محبت کے جوش میں لوگوں کی دیوانگی اور وارفتگی اس حد تک پہنچ گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللهَ حَتى لَا يَمُوتُ ـ جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد وفات پاگئے لیکن جو شخص خدا کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ خدا ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔