مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 117 of 239

مضامین ناصر — Page 117

(۱۳) تصنع اور بناوٹ سے باتیں نہ کرو۔اسلام دین فطرت اور ایک سیدھا سادہ مذہب ہے اور سیدھی سادی با موقع اور برمحل باتوں ہی کو پسند کرتا ہے۔انتخاب الفاظ میں تکلف ، بیان میں تصنع اور بناوٹ اسے پسند نہیں۔(۱۴) مخش کلامی ، بد زبانی اور گالی گلوچ سے پر ہیز کرو۔کہ یہ خبیث اور کمینگی کی علامتیں ہیں۔ہمارے نبی اکرم ﷺ نے بد زبانی سے بچنے پر اس قدر زور دیا ہے کہ رؤسائے کفر جو بدر کے میدان میں مارے گئے تھے۔انہیں گالی دینے سے بھی صحابہ کرام کو منع فرما دیا تھا۔(۱۵) کسی پر لعنت مت بھیجو۔انسان کو خدا سے دور لے جانے والی دو ہی چیزیں ہیں۔کفر اور ظلم، کا فرو ظالم کے علاوہ کسی اور پر لعنت بھیجنا ہمارے خدا اور ہمارے نبی ﷺ کو پسند نہیں۔نبی اکرم ﷺ کو اس بات کا اس قدر خیال تھا کہ آپ نے ایک موقع پر جب اپنے ایک صحابی کو اپنی سواری پر لعنت بھیجتے سنا تو اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم اس ملعون سواری کے ساتھ ہماری معیت میں سفر کر رہے ہو۔(۱۶) افشائے راز نہ کرو کہ اس سے دوستوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔یہ بھی یادرکھو کہ راز صرف وہی نہیں جسے بات بیان کرنے والا راز کہے۔بلکہ ہر وہ بات جو تم سے کہی گئی ہے کسی کا راز ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص تم سے کوئی بات کہہ کر چلا جاتا ہے تو اس کی بات تمہارے پاس بطور امانت رہ جاتی ہے۔پس امانت میں خیانت نہ کرو۔یہ ایک کمینہ اور تکلیف دہ حرکت اور عادت ہے۔(۱۷) تمسخر واستہزاء کی باتیں نہ کرو اور کسی کو بھی اپنے سے حقیر نہ سمجھو۔(۱۸) ہنسی ٹھٹھے کی باتوں ہی میں زندگی گزار دینے کو اپنا مقصد نہ بناؤ۔مزاح اپنی حدود میں رہے تو بُرا نہیں مگر اسلام پیشہ ور مسخروں کو پسند نہیں کرتا اور نہ خدا نے انسان کو اس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔(۱۹) شعر و شاعری بُری نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شعر میں بھی حکمت کی باتیں ملتی ہیں۔مگر اپنی سب ذمہ داریوں کو بھلا کر اور مقصد حیات کو پس پشت ڈالتے ہوئے شعرو شاعری ہی میں اپنی زندگی گنوادینا مومن کو زیب نہیں دیتا۔زبان اس میدان میں بھی جب اپنی حدود کو پھلانگ جاتی ہے تو شیطان کے پاؤں میں لڑکھڑاتی ہوئی نظر آتی ہے۔